طالبان رجیم کے پانچ سالہ دور میں افغانستان کی ابتر صورتحال، غربت، بے روزگاری اور پابندیوں نے عوام کو جکڑ لیا
دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں افغان عوام کی مشکلات کا تفصیلی احوال، لاکھوں افراد انسانی امداد کے محتاج، خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم و روزگار کے دروازے بدستور بند
لندن: برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک کی موجودہ زمینی صورتحال اور طالبان کے طرز حکمرانی پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں افغان عوام کو درپیش غربت، بے روزگاری، انسانی بحران، نقل مکانی اور خواتین و لڑکیوں پر عائد پابندیوں کی سنگینی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت افغانستان میں اپنے اقتدار کی کامیابی اور فتح کا جشن منا رہی ہے، تاہم دوسری جانب بڑی تعداد میں افغان شہری غربت، بھوک اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں ہزاروں افغان شہری خطرناک راستوں کے ذریعے ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے دوران انہیں شدید مشکلات اور جانی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صحرا میں ہلاکتیں، غربت کی سنگین تصویر
دی ٹیلی گراف کے مطابق روزگار کی تلاش میں ایران جانے والے بعض افغان شہری شدید گرمی، پیاس اور دشوار گزار صحرائی راستوں کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ میں صحرا میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کو ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور روزگار کے مواقع کی کمی کی ایک سنگین علامت قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی افغان خاندان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور بعض خاندانوں کو کئی کئی دن صرف خشک روٹی پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری بہتر معاشی اور سماجی حالات کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً 34 لاکھ افغان شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ افغانستان میں رہ جانے والی آبادی کو بھی روزگار اور بنیادی ضروریات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خواتین پر پابندیاں اور خوف کا ماحول
برطانوی جریدے نے اپنی رپورٹ میں افغانستان میں خواتین کی صورتحال کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کو لباس اور عوامی مقامات پر نقل و حرکت سمیت مختلف پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ بعض خواتین کو بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر طالبان اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر سخت رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیک پوسٹوں، نام نہاد اخلاقی پولیس اور خواتین کے لاپتا ہونے کے خدشات نے افغان معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق طالبان حکام نے صحافیوں کو 15 اگست کی کوریج کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کیں کہ وہ تقریبات اور جشن تک محدود رہیں اور تنقیدی نوعیت کا مواد نشر کرنے سے گریز کریں۔
کروڑوں افغان انسانی امداد کے محتاج
رپورٹ میں افغانستان کے انسانی بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے اعداد و شمار کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق اقوام متحدہ کے اندازوں کے تحت رواں سال تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افغان شہری انسانی امداد کے محتاج ہیں۔
اسی طرح اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ افغان شہری بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار افغانستان میں معاشی بحران، غربت اور انسانی ضروریات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ہبت اللہ اخوندزادہ کی غربت سے متعلق ہدایت
برطانوی جریدے کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغان عوام سے غربت اور بھوک سے متعلق خبروں پر یقین نہ کرنے کا کہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ طالبان کے سپریم لیڈر طویل عرصے سے عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے اور ان کی حکمرانی زیادہ تر پس پردہ رہتے ہوئے جاری ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر پابندیاں
دی ٹیلی گراف نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور روزگار کی صورتحال کو بھی اپنی رپورٹ کا اہم حصہ بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار کے بعد لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر عائد پابندیاں بدستور برقرار ہیں، جس کے باعث لاکھوں افغان لڑکیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔
یونیسکو کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ خواتین کے روزگار سے باہر ہونے کی تعداد بھی لاکھوں میں پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں افغان خواتین کی معاشی خودمختاری، تعلیم اور مستقبل کے مواقع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ لڑکیوں اور خواتین کے لیے روزگار، تعلیم اور آزادانہ سماجی زندگی کے راستے محدود ہونے سے ان کے مستقبل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
افغان لڑکیوں کے مستقبل پر سنگین خدشات
دی ٹیلی گراف کے مطابق افغانستان میں لڑکیوں کی زندگی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر موجودہ معاشی اور سماجی حالات مزید خراب ہوئے تو بعض لڑکیاں اپنی بقا اور معاشی تحفظ کے لیے ایسے فیصلوں پر مجبور ہو سکتی ہیں جو وہ عام حالات میں نہ کرتیں، جن میں طالبان ارکان سے شادی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ افغانستان میں طالبان کے پانچ سالہ دور کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں ایک طرف طالبان اقتدار کے قیام کو کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ملک کی ایک بڑی آبادی غربت، بے روزگاری، انسانی امداد کی ضرورت، نقل مکانی اور بنیادی حقوق سے متعلق پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال عالمی برادری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں ایک جانب انسانی امداد کی ضرورت برقرار ہے اور دوسری جانب خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، تعلیم اور روزگار پر عائد پابندیوں کے باعث ملک کے مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
