بنگلا دیش نے آسٹریلیا کو تاریخی شکست دے دی، پہلی مرتبہ کینگروز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میں ہرادیا
ڈارون: بنگلا دیش نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔ یہ بنگلا دیش کی آسٹریلوی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی کامیابی ہے، جسے کرکٹ کی دنیا میں بنگال ٹائیگرز کی بڑی اپ سیٹ فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈارون میں کھیلے گئے میچ میں بنگلا دیش نے آسٹریلیا کی جانب سے دیا گیا صرف 57 رنز کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ کامیابی کے ساتھ ہی بنگلا دیش نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کرلی۔
ہدف کے تعاقب میں بنگلا دیش کے اوپنر شادمان اسلام نے 25 رنز بنائے جبکہ مومن الحق 30 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں بلے بازوں نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو تاریخی کامیابی تک پہنچایا۔
اس سے قبل آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 198 رنز بنائے تھے، تاہم بنگلا دیش کے بلے بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 426 رنز بنا کر میزبان ٹیم پر واضح برتری حاصل کرلی۔ بنگلا دیش کی جانب سے پہلی اننگز میں مضبوط بیٹنگ کے باعث آسٹریلیا دباؤ میں آگیا۔
آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کی اور 284 رنز بنائے، تاہم پہلی اننگز کا خسارہ اتنا زیادہ تھا کہ بنگلا دیش کے لیے ہدف معمولی رہا۔ بنگلا دیش نے دوسری اننگز میں 57 رنز کا ہدف صرف ایک وکٹ گنوا کر حاصل کرلیا۔
اس فتح کی خاص بات یہ ہے کہ بنگلا دیش، جو ٹیسٹ رینکنگ میں آسٹریلیا سے کہیں نیچے ہے، نے دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم کو اس کے اپنے میدان پر شکست دی۔ اس کامیابی کو بنگلا دیش کرکٹ کی تاریخ کی اہم ترین فتوحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
بنگلا دیش کی اس کامیابی میں بلے بازوں کے ساتھ ساتھ بولرز نے بھی اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو دونوں اننگز میں مسلسل دباؤ میں رکھا۔ دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔
تاریخی فتح کے بعد بنگلا دیشی کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کامیابی نے نہ صرف بنگلا دیش کے ٹیسٹ کرکٹ میں بڑھتے ہوئے قد کا ثبوت دیا بلکہ آسٹریلیا کے لیے بھی سیریز کے اگلے میچ سے قبل کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
بنگلا دیش اب اس کامیابی کے بعد سیریز میں برتری برقرار رکھنے اور آسٹریلیا کے خلاف مزید ایک تاریخی سیریز فتح حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہوگا، جبکہ میزبان ٹیم اگلے ٹیسٹ میں کم بیک کرنے کی کوشش کرے گی۔
