Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ایران-امریکا مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ایران- امریکا  مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف

اسلام آباد کی کوششوں سے مذاکرات، مفاہمت اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی، مشترکہ پریس بریفنگ میں اظہار خیال

  

اسلام آباد: (نیوز پلس) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششوں نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، بعد ازاں جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات کے فریم ورک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، ہر پاکستانی کو پاکستان کے اس اہم سفارتی کردار پر فخر ہونا چاہیے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی امن و سلامتی کے معاملات میں پاکستان کا مصروف عمل اور فعال سفارتی کردار نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں ثالثی اور بات چیت کے لیے حالات سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

گوتریس نے واضح الفاظ میں تمام فریقین پر زور دیا کہ جنگ اور تنازع ختم کیا جائے، سفارت کاری کی طرف واپس آیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق بحال کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے اور اقوام متحدہ اس سلسلے میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سفارتی کردار کو قابل ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے لیے قابل اعتماد ماحول پیدا کرنے میں مدد دی۔

انتونیو گوتریس نے فلسطین کی صورتحال پر بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم نہ کیا جائے۔ انہوں نے غزہ میں امن منصوبے پر فوری عملدرآمد اور فلسطینی عوام کی مشکلات ختم کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین اور خلیج کے تنازعات کے دوران عالمی برادری کو فلسطین کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

گوتریس نے 7 اکتوبر کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن قائم نہیں ہوسکتا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے پاکستان کی اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستانی مرد و خواتین نے اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں ہمت اور عزم کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

گوتریس نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی باوقار واپسی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے اور اقوام متحدہ کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

مشترکہ پریس بریفنگ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے، جہاں ایران، امریکا، حوثیوں اور باب المندب سمیت متعدد بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، تاہم اصل مسئلہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کا ہے۔

اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر کو مثال بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے حوالے سے قراردادیں منظور کر رکھی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی ادارے کی قراردادوں کو محض کاغذی دستاویزات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے واضح نظام وضع کیا جانا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے واضح میکنزم، مراعات اور نتائج کا نظام ہونا چاہیے تاکہ عالمی فیصلوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان کے مطابق اگر بین الاقوامی فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو عالمی نظام کی ساکھ اور مؤثریت متاثر ہوگی۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی فوری مذمت کی تھی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادی پالیسی تنازعات کو مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے حل کرنے کی ہے۔

نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پاکستان کے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری سے متعلق سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ کھولنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

قبل ازیں اسحاق ڈار اور انتونیو گوتریس کے درمیان ملاقات میں فلسطین، جموں و کشمیر، افغانستان، انسداد دہشت گردی، عالمی امن و سلامتی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ڈار نے گوتریس کو مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کے ساتھ اقوام متحدہ کے دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔ گوتریس 6 سے 8 اکتوبر تک پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں، جس دوران وہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

گوتریس اپنے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کریں گے جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں پاکستان کی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ابتدائی انتباہی نظام کے حوالے سے بریفنگ بھی لیں گے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات بحال کرنے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ مشترکہ پریس بریفنگ میں گوتریس کی جانب سے پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف اور تمام فریقوں کو جنگ ختم کرکے سفارت کاری کی طرف واپس آنے کی اپیل کو دورے کا اہم سفارتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:4 × 3 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More