Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پی ٹی آئی مارچ اور دھرنے کا سلسلہ ختم کرے تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے ۔ وزیراعظم

پی ٹی آئی مارچ اور دھرنے کا سلسلہ ختم کرے تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے ۔ وزیراعظم

ملکی معیشت ڈھائی سال کی محنت سے سنبھلی، میکرو اکنامک استحکام بڑی مشکل سے حاصل کیا، دوبارہ ترقی کا پہیہ جام نہ کریں

  

اسلام آباد: (نیوز پلس) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مارچ اور دھرنوں کا سلسلہ ختم کیا جائے تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے، تاہم احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے ملک کی معیشت اور معمولات زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران مسلسل محنت، ٹیم ورک اور مشکل فیصلوں کے ذریعے ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق میکرو اکنامک استحکام آسانی سے حاصل نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے حکومت اور قوم کو متعدد مشکل مراحل سے گزرنا پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام کا سفر جاری ہے اور حکومت کی توجہ معیشت کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافے پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کی خواہش اور ہر پاکستانی کی آواز یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط، خوشحال اور ایک عظیم ملک بنایا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں بھی کیں، تاہم بدقسمتی سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے کی جانے والی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اب بھی سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا دروازہ بند نہیں کر رہی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ مارچ اور دھرنے ختم کیے جائیں گے تو حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ بات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قوتوں کو ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر اختلافات کا حل تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ سیاسی کشیدگی میں اضافہ کسی ایک جماعت نہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک کو متاثر کرتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے احتجاجی سیاست کے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک میں ترقی اور خوشحالی کا عمل آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب مسلسل احتجاج اور دھرنوں کے باعث کاروباری سرگرمیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاج کی سیاست کا پہلا اثر ملکی معیشت پر پڑے گا اور اس کے نتیجے میں برآمدات، درآمدات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بڑی مشکل سے معاشی استحکام حاصل کیا ہے اور ایسے وقت میں سیاسی بے یقینی میں اضافہ سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق معیشت کو سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔

شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے تو کیا دوبارہ ترقی کے پہیے کو جام کرنا ملک کے مفاد میں ہے؟ انہوں نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کی حساسیت کو سمجھیں اور احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی احتجاج کے نتیجے میں اگر سڑکیں بند ہوتی ہیں اور نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عام شہری، تاجر، صنعت کار، مزدور اور روزگار سے وابستہ افراد تک پہنچتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی متعدد معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ رہا ہے، اس لیے مزید سیاسی بے یقینی پیدا کرنا مسائل میں اضافہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "ہوش کے ناخن لیں اور دھرنوں کو ختم کریں۔” وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا مقصود ہے؟ ان کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہا ہے، اس لیے ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ حکومت ملکی ترقی، معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے ایجنڈے پر کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔

حالیہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی کی گئی تھیں۔ یکم اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں سیاسی و سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور حکومت و پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل وفد کے ذریعے پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا ایک دور بھی ہوا، جس میں دونوں جانب سے سیاسی صورتحال اور مختلف قومی معاملات پر مؤقف پیش کیا گیا۔ مذاکرات میں آئینی و سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاہم پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے معاملے پر فریقین کے درمیان اختلاف برقرار رہا۔

موجودہ صورتحال میں وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ جاری ہے اور حکومت کی جانب سے اس کے معاشی، انتظامی اور سیکیورٹی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے احتجاجی مارچ اور دھرنوں کا خاتمہ ضروری ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:15 + 8 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More