Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

9مئی جیسے حالات دوبارہ پیدا کرنے کی موشش فیصلہ کن طاقت سے کچ؛ی جائے گئی۔ کورکمانڈرز کانفرنس

9مئی جیسے حالات دوبارہ پیدا کرنے کی موشش فیصلہ کن طاقت سے کچ؛ی جائے گئی۔ کورکمانڈرز کانفرنس

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، مسلح افواج دفاع وطن کیلئے تیار ہیں

راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی سلامتی، دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں، داخلی استحکام، جدید جنگی تقاضوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے واضح کیا کہ قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ پاک فوج سمیت مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کانفرنس کے آغاز پر مسلح افواج کے افسران و جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور مادر وطن کے دفاع و سلامتی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے درجات کی بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ شرکا نے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کے دفاع اور امن و استحکام کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو ہر سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فارمیشنز کو ہدایت کی کہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے جدید جنگی تقاضوں کے مطابق مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے حصول، پیشہ ورانہ تربیت اور جنگ کے تمام شعبوں کے باہمی انضمام کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

کانفرنس میں ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے زمینی سطح پر کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مؤثر انتظامی اقدامات، بہتر گورننس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔

شرکا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ فورم نے پولیس کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور قرار دیا کہ پاکستان کے داخلی استحکام کو قومی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

کور کمانڈرز کانفرنس نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے معاملے پر بھی غور کیا۔ فورم نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے بنیادی اسباب کے حوالے سے عوام کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری اور واضح قومی بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

فورم نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دہشتگرد عناصر اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے درمیان موجود گٹھ جوڑ توڑنے کو بھی ضروری قرار دیا۔ شرکا کے مطابق مخصوص عناصر کے ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ کے خاتمے کے بغیر دہشتگردی کے مکمل تدارک کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا، اس لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ انتظامی اور قانونی سطح پر بھی مؤثر کارروائیاں ضروری ہیں۔

کانفرنس میں داخلی سیاسی و امن و امان کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ شرکا نے واضح کیا کہ کسی بھی جواز کے تحت پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ فورم کے مطابق ایسی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق بلاامتیاز، بلاجھجھک اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے دہشتگردی کے سنگین نتائج کا ذمہ دار طالبان قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے آلہ کار کے طور پر دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔ کانفرنس میں دہشتگردی کے خلاف قومی سطح پر مربوط حکمت عملی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں اضافے اور سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ فورم نے معاہدے کو تینوں ممالک کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

شرکا نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ان حملوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ فورم نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حرمین شریفین کے تحفظ، سلامتی اور تقدس کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

کانفرنس میں مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ فورم نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

کور کمانڈرز کانفرنس کے اختتام پر فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری عزم و حوصلے کے ساتھ انجام دیتی رہیں گی اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:14 − 1 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More