وائٹ ہاؤس کا چین پر تجارتی دھوکہ دہی کا الزام، 40 سے زائد ممالک کے ذریعے امریکی ٹیرف سے بچنے کا دعویٰ
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے چین پر امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکہ دہی اور اشیا کی غیرقانونی ترسیل کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل سمیت 40 سے زائد ممالک کے ذریعے امریکی منڈی تک پہنچایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے چینی مصنوعات کو براہِ راست چین سے درآمد کرنے کے بجائے مختلف ممالک کے راستے امریکا پہنچایا جاتا ہے تاکہ ان پر عائد امریکی ٹیرف سے بچا جا سکے۔ امریکی حکام کے اندازے کے مطابق اس عمل کے ذریعے سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر سے 303 ارب ڈالر تک کی تجارت ٹیرف سے بچنے کے لیے دوسرے راستوں سے منتقل کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے، جس کے بعد چین کی جانب سے مبینہ طور پر ٹیرف سے بچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے تجارتی راستوں کا معاملہ ایک بار پھر امریکی پالیسی کے مرکز میں آگیا ہے۔
رپورٹ صدر ٹرمپ کے معاون پیٹر ناوارو (Peter Navarro) کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ طریقہ کار خاص طور پر 2018 میں چین پر امریکی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد زیادہ وسیع ہوا۔ رپورٹ کے مطابق چینی مصنوعات کی براہِ راست امریکا درآمدات میں بعض ادوار کے دوران کمی دیکھی گئی، جبکہ اسی عرصے میں دوسرے ممالک سے امریکا آنے والی بعض مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ہوا۔
امریکی رپورٹ کے مطابق مبینہ تجارتی دھوکہ دہی کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں چینی مصنوعات پر نئے لیبل لگانا، دوبارہ پیکنگ کرنا، معمولی نوعیت کی پروسیسنگ یا اسمبلنگ کرنا، نئی رسیدیں یا تجارتی دستاویزات تیار کرنا اور مصنوعات کا غلط ملکِ منشا ظاہر کرنا شامل ہیں۔
رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ بعض صورتوں میں ایسی اشیا جن کی اصل چین ہوتی ہے، انہیں ایسے ملک کی مصنوعات ظاہر کیا جاتا ہے جہاں ان کی معمولی پروسیسنگ ہوئی ہو یا جہاں سے انہیں امریکا بھیجا گیا ہو۔ اس طریقے کے ذریعے امریکی حکام کے لیے مصنوعات کے حقیقی ماخذ کا تعین مشکل ہو سکتا ہے اور درآمد کنندگان زیادہ ٹیرف سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی حکام کی جانب سے جن ممالک اور خطوں کو مبینہ طور پر چینی مصنوعات کی اس منتقلی کے لیے استعمال کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں کینیڈا، اسرائیل، یورپی یونین، میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار شامل ہیں۔
رپورٹ میں بھارت کا نام بھی شامل کیا گیا ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں جنہیں چینی اشیا کی امریکا غیرقانونی ترسیل کے لیے استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے منسوب رپورٹ میں اس عمل کے امریکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں امریکا میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ ملازمتوں کا نقصان ہوا، جبکہ مجموعی ملکی پیداوار (GDP) اور وفاقی ٹیکس آمدن کو بھی سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی مینوفیکچررز اور مقامی صنعتوں کو بھی اس صورتحال سے نقصان پہنچتا ہے کیونکہ کم ٹیرف یا ٹیرف سے بچ کر آنے والی چینی مصنوعات امریکی مارکیٹ میں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کو چینی مصنوعات کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے اور تجارتی پالیسی سخت کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ اب ان خامیوں کو دور کرنے پر مرکوز ہو گئی ہے جن کے ذریعے درآمد کنندگان امریکی ٹیرف نظام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیرف پالیسی کا مقصد صرف چین سے براہِ راست آنے والی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنا نہیں بلکہ ایسے راستوں کو بھی روکنا ہے جن کے ذریعے مصنوعات کی اصل شناخت یا ملکِ منشا تبدیل کرکے امریکی کسٹمز سے کم ٹیرف کے ساتھ داخل ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔
تجارتی ماہرین کے مطابق اگر امریکا ان الزامات کی بنیاد پر کسٹمز قوانین کو مزید سخت کرتا ہے تو عالمی سپلائی چین پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ بہت سی مصنوعات کی تیاری مختلف ممالک میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ ایسے میں یہ طے کرنا کہ کسی مصنوعات کا حقیقی ملکِ منشا کون سا ہے، ایک پیچیدہ معاملہ بن سکتا ہے۔
چین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی پہلے ہی کئی برس سے جاری ہے اور ٹیرف اس تنازع کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اب ٹیرف سے بچنے کے مبینہ راستوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ اس تجارتی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں بیان کیے گئے 40 ارب سے 303 ارب ڈالر کے تخمینے اور ملازمتوں کے نقصان سے متعلق دعوے امریکی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے اندازے ہیں، جنہیں حتمی طور پر ثابت شدہ اعداد و شمار کے طور پر بیان کرنے سے پہلے آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
