Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

قرضوں میں جکڑی قوم پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری، حکومت کا نیا قرض پلان سامنے آگیا

قرضوں میں جکڑی قوم پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری، حکومت کا نیا قرض پلان سامنے آگیا

بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے حکومت کی 7 ہزار 20 ارب روپے فنانسنگ، قرض حکمت عملی میں بڑے اہداف مقرر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 2026-27 کے 7 ہزار 20 ارب روپے کے وفاقی مالی خسارے کی فنانسنگ کا منصوبہ تیار کرلیا، جس کے تحت 6 ہزار 46 ارب روپے خالص مقامی، 813 ارب روپے خالص بیرونی فنانسنگ اور 161 ارب روپے نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدن سے مالی ضرورت پوری کی جائے گی۔ وزارت خزانہ نے 2026 سے 2028 تک کی تین سالہ قرض حکمت عملی میں طویل المدتی اور فکسڈ ریٹ قرضوں کا حصہ بڑھانے، قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرنے اور سکوک سمیت شرعی مالیاتی آلات کا حصہ 20 فیصد سے زائد کرنے کے اہداف مقرر کیے ہیں۔

وزارت خزانہ کے Budget in Brief 2026-27 کے مطابق وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے جبکہ مجموعی وفاقی اخراجات 18 ہزار 771 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی مالی خسارہ 7 ہزار 20 ارب روپے بنتا ہے۔ اس خسارے کی مکمل فنانسنگ کے لیے حکومت نے مقامی اور بیرونی ذرائع کے علاوہ نجکاری کی متوقع آمدن کو بھی منصوبے میں شامل کیا ہے۔

سرکاری فنانسنگ پلان کے مطابق 6 ہزار 46 ارب روپے خالص مقامی فنانسنگ سے حاصل کیے جائیں گے، جس میں 274 ارب روپے نیشنل سیونگز اسکیموں، جی پی فنڈ، ڈپازٹس اور ریزروز سے جبکہ 5 ہزار 772 ارب روپے گورنمنٹ سیکیورٹیز کے ذریعے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔

مقامی فنانسنگ میں حکومت نے بینکوں اور نان بینک سرمایہ کاروں سے سرکاری سیکیورٹیز کے ذریعے رقوم حاصل کرنے پر انحصار برقرار رکھا ہے۔ تاہم تین سالہ قرض حکمت عملی میں مستقبل کے لیے قرضوں کی مدت بڑھانے اور مختصر مدت کے قرضوں کے ری فنانسنگ دباؤ کو کم کرنے کو بنیادی ترجیح بنایا گیا ہے۔

بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے کی خالص فنانسنگ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس میں 30 ارب روپے ملٹی لیٹرل اور بائی لیٹرل ذرائع جبکہ 783 ارب روپے کمرشل ذرائع اور بانڈز سے حاصل ہونے کا منصوبہ ہے۔

حکومت نے رواں مالی سال 161 ارب روپے نجکاری کی آمدن بھی فنانسنگ پلان میں شامل کی ہے۔ اس طرح 6 ہزار 46 ارب روپے مقامی فنانسنگ، 813 ارب روپے بیرونی فنانسنگ اور 161 ارب روپے نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم ملا کر مجموعی طور پر 7 ہزار 20 ارب روپے کی فنانسنگ مکمل ہوتی ہے۔

قرضوں کا موجودہ حجم 78.7 ٹریلین روپے

وزارت خزانہ کی تین سالہ قرض حکمت عملی کے مطابق جون 2025 کے اختتام پر پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض تقریباً 78.7 ٹریلین روپے تھا، جو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 68.6 فیصد کے برابر بنتا ہے۔ اس میں تقریباً 53.5 ٹریلین روپے ملکی قرض جبکہ 25.2 ٹریلین روپے بیرونی قرض شامل تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق جون 2025 تک ملکی قرض کی اوسط مدتِ میچورٹی 3.8 سال جبکہ بیرونی قرض کی اوسط مدت 6.1 سال تھی۔ مجموعی قرض کی اوسط مدت تقریباً 4.5 سال رہی۔

قرض کی لاگت کے حوالے سے وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق FY2025 میں مجموعی قرض پر اوسط شرح سود تقریباً 11.9 فیصد رہی، جبکہ ملکی قرض کی اوسط شرح سود 15.82 فیصد اور بیرونی قرض کی اوسط شرح سود تقریباً 4.14 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

حکومت کا طویل المدتی قرض بڑھانے کا منصوبہ

تین سالہ قرض حکمت عملی میں وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت آئندہ عرصے میں طویل المدتی، فکسڈ ریٹ اور زیرو کوپن بانڈز کے اجرا میں اضافہ کرے گی۔ اس مقصد کے لیے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) کی خالص جاری کردہ مقدار بڑھانے اور مختصر مدتی ٹریژری بلز پر انحصار کم کرنے کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

وزارت خزانہ کے مطابق فلوٹنگ ریٹ قرضوں میں بھی احتیاط برتی جائے گی اور فلوٹنگ ریٹ آلات میں 10 سالہ مدت کو بنیادی آپشن کے طور پر برقرار رکھنے کا منصوبہ ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد شرح سود میں اتار چڑھاؤ کے باعث حکومتی قرضوں پر پڑنے والے اضافی مالی دباؤ کو محدود کرنا ہے۔

سکوک اور اسلامی مالیاتی ذرائع کا حصہ 20 فیصد سے زائد کرنے کا ہدف

قرض حکمت عملی میں سرکاری سیکیورٹیز کے پورٹ فولیو میں شرعی اصولوں کے مطابق مالیاتی آلات کا حصہ 20 فیصد سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق FY2025 میں گورنمنٹ سیکیورٹیز میں شریعہ کمپلائنٹ آلات کا حصہ تقریباً 12.7 فیصد تھا، جسے آئندہ تین سال میں 20 فیصد سے زیادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مختلف مدت کے سکوک متعارف کرانے اور نان بینک سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

سرکاری حکمت عملی کے مطابق اس وقت ملکی قرض کی سرکاری سیکیورٹیز میں تقریباً 78 فیصد حصہ کمرشل بینکوں کے پاس ہے، جبکہ انشورنس کمپنیوں کا حصہ تقریباً 5 فیصد، انویسٹمنٹ فنڈز کا تقریباً 8 فیصد اور کارپوریٹس و دیگر اداروں کا تقریباً 10 فیصد ہے۔ وزارت خزانہ نان بینک سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھا کر سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنا چاہتی ہے۔

فکسڈ ریٹ قرض کا حصہ 30 فیصد سے زیادہ کرنے کا ہدف

وزارت خزانہ نے تین سالہ حکمت عملی میں ملکی سرکاری سیکیورٹیز کے پورٹ فولیو میں فکسڈ ریٹ قرض کا حصہ 30 فیصد سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اس کے ساتھ ملکی قرض کی اوسط مدتِ میچورٹی 4.25 سال سے زائد جبکہ بیرونی قرض کی اوسط مدت 6.2 سال سے زائد رکھنے کا ہدف ہے۔ شرح سود کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ملکی قرض کی اوسط مدتِ ری فکسنگ بھی 2 سال سے زائد رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

بیرونی قرض میں مختصر مدتی کمرشل فنانسنگ کم کرنے کا فیصلہ

وزارت خزانہ نے بیرونی قرضوں کے حوالے سے مختصر مدت اور زیادہ لاگت والی کمرشل فنانسنگ پر انحصار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ زیادہ توجہ ملٹی لیٹرل اور بائی لیٹرل ذرائع سے درمیانی اور طویل المدتی فنانسنگ حاصل کرنے پر ہوگی کیونکہ ان ذرائع سے نسبتاً طویل مدت اور رعایتی شرائط پر قرض دستیاب ہوتا ہے۔

وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرض میں ملٹی لیٹرل قرض کا حصہ تقریباً 47 فیصد ہے، جبکہ بائی لیٹرل ممالک کے قرض کا حصہ تقریباً 17 فیصد اور بائی لیٹرل ڈپازٹس کا حصہ 10 فیصد ہے۔ غیر ملکی کمرشل بینکوں سے حاصل کردہ قرض کا حصہ تقریباً 7 فیصد ہے، جبکہ یورو بانڈز اور بیرونی سکوک کا حصہ تقریباً 8 فیصد ہے۔

پانڈا بانڈ کیلئے ایک ارب ڈالر کا پروگرام

تین سالہ حکمت عملی میں حکومت نے عالمی کیپیٹل مارکیٹ میں رسائی بحال کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈ پروگرام کا انتظام کیا ہے، جس کے تحت FY2026 میں 200 سے 250 ملین ڈالر کی ابتدائی بانڈ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ بعد کے عرصے میں مزید ٹرانچز جاری کی جاسکتی ہیں۔

حکومت عالمی مارکیٹ میں Panda Bonds، Sustainable Bonds اور Eurobonds کے ذریعے فنانسنگ کے امکانات تلاش کرے گی، تاہم ان بانڈز کا اجرا عالمی شرح سود، سرمایہ کاروں کی طلب اور مجموعی معاشی استحکام سے مشروط ہوگا۔

مالی خسارہ بتدریج کم کرنے کا ہدف

وزارت خزانہ کی تین سالہ حکمت عملی میں مالی خسارے کو مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے بتدریج کم کرنے کا تخمینہ بھی دیا گیا ہے۔ حکمت عملی کے مطابق وفاقی مالی خسارہ FY2026 میں 5 فیصد، FY2027 میں 4.5 فیصد اور FY2028 میں 3.9 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ اسی عرصے میں وفاقی پرائمری سرپلس بالترتیب 1.3 فیصد، 1 فیصد اور 1 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق FY2026 سے FY2028 کے دوران نامزد مجموعی قومی پیداوار 129.6 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 162.5 ٹریلین روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جبکہ حکمت عملی میں حقیقی معاشی نمو FY2026 میں 4.2 فیصد، FY2027 میں 5.1 فیصد اور FY2028 میں 5.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق تین سالہ قرض حکمت عملی کا بنیادی مقصد حکومت کی مالی ضروریات اور قرض کی ادائیگیوں کو کم سے کم ممکنہ لاگت اور محتاط خطرے کے ساتھ پورا کرنا، ملکی بانڈ مارکیٹ کو ترقی دینا، ری فنانسنگ خطرات کم کرنا اور ملکی و بیرونی قرضوں کے ڈھانچے کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:15 − 3 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More