یو ایس ایس ابراہم لنکن پر سیلرز کی سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوششیں، طویل تعیناتی سے ذہنی دباؤ سنگین ہوگیا
واشنگٹن: امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ہزاروں ملاحوں اور میرینز کی طویل سمندری تعیناتی نے ذہنی صحت کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کردیئے ہیں، جبکہ امریکی دفاعی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض ملاحوں نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی۔
امریکی فوجی اخبارات نیوی ٹائمز اور اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تقریباً 5 ہزار ملاح اور میرینز موجود ہیں، جو مسلسل نویں ماہ سمندر میں تعینات ہیں۔ طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 250 دن سے مسلسل کسی بندرگاہ پر رکے بغیر سمندر میں موجود ہے، جسے جدید دور میں امریکی طیارہ بردار جہاز کی غیرمعمولی طویل تعیناتی قرار دیا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق طویل تعیناتی، مسلسل جنگی آپریشنز، اہل خانہ سے دوری اور جہاز پر مبینہ طور پر بنیادی سہولیات کی کمی نے عملے پر شدید ذہنی دباؤ پیدا کردیا ہے۔
ملاحوں کی مبینہ خودکشی کی کوششیں
نیوی ٹائمز نے موجودہ تعیناتی کے دوران جہاز پر پیش آنے والے ایسے واقعات کی تفصیلات شائع کی ہیں جن میں بعض ملاحوں نے مبینہ طور پر سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔
ایک ملاح کی اہلیہ انابیلا لوما نے اخبار کو بتایا کہ طویل اور مسلسل بڑھائی جانے والی تعیناتی سے شدید ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار ان کے شوہر نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق ان کے شوہر کو یہ خدشہ بھی تھا کہ اگر وہ مزید فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہے تو اسے فوج سے نکال دیا جائے گا اور اس کا 13 سالہ فوجی کیریئر ختم ہوجائے گا۔
ایک دوسرے ملاح کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر نے جہاز پر ایک ساتھی اہلکار کو سمندر میں چھلانگ لگانے سے روکنے کے لیے مداخلت کی۔ انہوں نے ساتھی ملاح کو پکڑ کر واپس ڈیک پر کھینچ لیا۔
تاہم امریکی بحریہ نے جہاز پر خودکشی کے واقعات میں اضافے کی تردید کی ہے۔
فوجی خاندانوں میں شدید تشویش
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود اہلکاروں کے اہل خانہ نے بھی امریکی بحریہ کی قیادت کے سامنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں منعقدہ ایک ٹاؤن ہال اجلاس میں تقریباً 200 فوجی خاندانوں نے شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے پیاروں کی طویل تعیناتی، ذہنی صحت اور جہاز پر مبینہ خراب حالات کے بارے میں سوالات اٹھائے۔
اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے مطابق ایک فوجی کی اہلیہ نے اجلاس میں بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے پیغام بھیجا تھا کہ وہ امید کرتا ہے کہ اگلی صبح اس کی آنکھ نہ کھلے۔
اجلاس میں قائم مقام سیکریٹری نیوی ہنگ کاؤ اور دیگر اعلیٰ امریکی بحری حکام بھی موجود تھے۔
ایک خاتون نے ہنگ کاؤ سے کہا کہ طویل تعیناتی اور موجودہ حالات نے فوجی خاندانوں اور بحریہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
جہاز پر بنیادی سہولیات کی مبینہ کمی
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس مائیک لیون نے بھی یو ایس ایس ابراہم لنکن پر حالات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
لیون کے مطابق ملاحوں نے پھپھوندی زدہ شاورز، خراب بیت الخلا، کئی ہفتوں تک لانڈری کی سہولت بند رہنے اور طویل عرصے تک گرم پانی دستیاب نہ ہونے کی شکایات کی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جہاز پر بعض اوقات کھانے کی صورتحال انتہائی خراب رہی اور ملاحوں کو محدود مقدار میں کھانا فراہم کیا گیا۔
لیون کے مطابق بنیادی اشیائے ضروریہ، جن میں صابن، ڈیوڈورنٹ اور ٹوتھ پیسٹ شامل ہیں، کی دستیابی بھی متاثر ہوئی۔
کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس اور سابق آرمی رینجر جیسن کرو نے بھی خبردار کیا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر دباؤ ہر گزرتے ہفتے کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
نومبر سے مسلسل سمندر میں موجود ہے جہاز
یو ایس ایس ابراہم لنکن نے 21 نومبر کو سان ڈیاگو سے روانگی اختیار کی تھی۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق طیارہ بردار جہاز کو بحرالکاہل کے علاقے میں تعینات کیا جانا تھا، تاہم ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد اسے مشرق وسطیٰ کی جانب موڑ دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل عملے کو طویل تعیناتی کے دوران اب تک صرف دو مرتبہ زمین پر اترنے کا موقع ملا۔
جہاز نے دسمبر میں گوام میں قیام کیا جبکہ جولائی میں عمان میں بھی مختصر قیام کیا گیا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی تعیناتی اصل میں مئی میں ختم ہونا تھی، تاہم خطے میں جاری جنگ اور امریکی فوجی ضروریات کے باعث تعیناتی میں متعدد مرتبہ توسیع کردی گئی۔
اپریل میں بھی جہاز کے حالات پر سوالات اٹھے
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر خراب حالات کی شکایات کئی ماہ سے سامنے آرہی ہیں۔
اپریل میں جہاز پر فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور مقدار سے متعلق تصاویر اور رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس کے علاوہ پانی کی قلت، شاورز میں پھپھوندی اور خراب لانڈری مشینوں کی شکایات بھی کی گئی تھیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس وقت ان میں سے بعض رپورٹس کو ’’فیک نیوز‘‘ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔
مائیک لیون نے بعدازاں ہیگستھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو فوجی اپنے ملک کی خدمت کے لیے گھر سے دور موجود ہیں، انہیں کم از کم گرم پانی، کام کرنے والے بیت الخلا اور مناسب خوراک فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
امریکی بحریہ کا موقف
امریکی بحریہ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ملاحوں کی جانب سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی مبینہ کوششوں کے بارے میں کہا ہے کہ ادارہ طویل تعیناتی کے باعث فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر پڑنے والے دباؤ سے آگاہ ہے۔
تاہم بحریہ کے ایک عہدیدار کے مطابق جہاز کی کمانڈ کو دستیاب معلومات کی بنیاد پر خودکشی کے خیالات یا خودکشی کی کوششوں کی رپورٹ شدہ تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ملا۔
بحریہ نے کہا کہ جہاز پر موجود ہر ملاح کی صحت اور فلاح و بہبود اس کی ترجیح ہے اور اہلکاروں کو طبی، ذہنی صحت اور مذہبی معاونت سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
حکام کے مطابق جہاز پر ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ماہرین، ڈپلائمنٹ ریزیلینس کونسلرز اور چیپلینز بھی موجود ہیں۔
امریکی بحریہ نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے باعث روایتی سپلائی مراکز متاثر ہوئے ہیں، تاہم جہاز سے موصولہ موجودہ رپورٹس کے مطابق ملاحوں کو صاف پانی، فعال ایئر کنڈیشننگ اور صحت بخش خوراک مسلسل دستیاب ہے۔
طویل تعیناتی نے ذہنی صحت کے خطرات بڑھا دیئے
امریکی بحریہ میں طویل سمندری تعیناتیوں کے دوران ذہنی دباؤ ایک پرانا مسئلہ ہے، تاہم یو ایس ایس ابراہم لنکن کی موجودہ تعیناتی نے اس معاملے کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔
گزشتہ سال ایک تحقیق میں تعینات ملاحوں کو درپیش ذہنی دباؤ کے عوامل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تحقیق کے مطابق مسلسل شور، مناسب نیند اور آرام کی کمی اور ذہنی و جسمانی صحت کی ناکافی سہولیات ملاحوں کے لیے اہم مسائل ہیں۔
تحقیق میں شامل تقریباً نصف ملاحوں نے شکایت کی کہ انہیں سمندر میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے مناسب مدد دستیاب نہیں۔
محققین نے خبردار کیا کہ امریکی فوج میں خودکشی کے مسلسل خطرے کے پیش نظر بحری جہازوں پر طبی اور ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کا معاملہ اب امریکی بحریہ کے لیے ایک بڑا سوال بن چکا ہے کہ جنگی ضروریات اور طویل تعیناتی کے دوران فوجیوں کی آپریشنل ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت، آرام، بنیادی سہولیات اور خاندانوں سے رابطے کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔
