Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان کی ایران کے معاملے پر تمام تر کوششیں کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز ہیں، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار

پاکستان کی ایران کے معاملے پر تمام تر کوششیں کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز ہیں، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار

آپریشن آپریشن غضب للحق کے تحت تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ اسحاق ڈار

ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں کشیدگی کم کروانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

اسلام آباد میں مختلف ممالک کے سفرا کو دی گئی بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور پاکستان علاقائی و دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی تازہ صورتحال پر بھی دوست ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایران کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے اور تمام تر کوششیں کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ریاستیں ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری کے احترام اور عالمی قوانین کی پابندی کی ذمہ دار ہیں، جبکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں۔

ڈپٹی وزیراعظم نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایک حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا ہے۔

اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ خصوصاً غزہ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ کے عوام کی مدد کی ہے اور غزہ پیس بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں بھی شرکت کی۔

افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن ہمسائیگی کا خواہاں ہے اور گزشتہ سال افغانستان کے تین دورے کیے گئے جن میں معیشت، تجارت اور علاقائی روابط پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے منصوبے کے ذریعے روابط بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور افغان طلبا کے لیے 4500 وظائف کی پیشکش کی گئی، تاہم اکتوبر میں افغان سرزمین سے سنگین خلاف ورزی سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ قطر اور استنبول میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ آپریشن آپریشن غضب للحق کے تحت تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

ڈپٹی وزیراعظم کے مطابق سرحدی علاقوں کے 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر حملے ناقابل قبول تھے، جس کے جواب میں کابل، ننگرہار اور پکتیکا سمیت 37 مقامات کو مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں میں شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور اقدامات انتہائی احتیاط سے کیے گئے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور افغانستان اس وقت دہشت گرد عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، اسی تناظر میں دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More