پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمت کی 6یادداشتوں پر دستخط
پتراجایا: (سجاد کھوکھر) پاکستان اور ملائیشیا نے تعلیم، حلال سرٹیفکیشن، سیاحت اور انسداد بدعنوانی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمت کی 6 یادداشتوں پر دستخط کر دیئے۔پیر کو اس سلسلے میں تقریب ملائیشیا کے وزیراعظم کے دفتر پردانا پترا کمپلیکس میں منعقد ہوئی،وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد تقریب میں شرکت کی،پاکستان اور ملائیشیا نے سفارت کاروں کی تربیت کے شعبے میں تعاون کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف ڈپلومیسی اینڈ فارن ریلیشنز اور پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
اس موقع پر دستاویزات کا تبادلہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ملائیشیا کے وزیر خارجہ حاجی محمد بن حاجی حسن نے کیا۔اسی طرح دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ رانا تنویر حسین اور ملائیشیا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر زامبری عبدالقادر نے دستاویزات کا تبادلہ کیا،سیاحت کے فروغ کیلئے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ ملائیشیا کے وزیرسیاحت تیونگ کنگ سنگ اور پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاا تارڑ نے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔حلال سرٹیفکیشن کے شعبے میں تعاون سے متعلق ایک اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ دستاویزات کا تبادلہ ملائیشیا کے مذہبی امور کے وزیر ڈاکٹر حاجی محمد نعیم بن حاجی مختار اور پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ہوا۔دونوں ممالک نے بدعنوانی کی روک تھام کیلئے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

اس موقع پر دستاویزات کا تبادلہ ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن کے سربراہ اعظم بن باقی اور نیب کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر کے درمیان ہوا۔مفاہمت کی چھٹی یادداشت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ سے متعلق ہے جس کے تحت پاکستان کی سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا)اور ملائیشیا کی سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کارپوریشن کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے گا۔اس موقع پر دستاویزات کا تبادلہ ایس ایم ای کارپوریشن ملائیشیا کے سی ای او رضال بن داتو نائن اور وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی کے درمیان ہوا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیراعظم کی طرف سے پاکستان سے 20 کروڑ ڈالرمالیت کے حلال گوشت کی درآمد کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اقتصادی ترقی کے دیگر شعبوں میں ملائیشیا کے وسیع تجربات سے استفادے اور مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے خواہاں ہیں،پاکستان اور ملائیشیا کے مابین اعلیٰ تعلیم، سیاحت،حلال سرٹیفیکیشن،بدعنوانی کی روک تھام اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لیے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں جبکہ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نےبرصغیر پاک و ہند میں امن کے قیام کو خطے کےلئے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی ،فلسطین اور غزہ کے معاملے پر پاکستان کے موقف کو سراہتے ہیں، ہمارا مشترکہ موقف پائیدار امن کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔پیر کو یہاں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخطوں کے بعد اپنے ملائشیا ئی ہم منصب انور ابراہیم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملائیشیا کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام اور اپنے وفد کے ارکان کی طرف سے برادر ملک ملائیشیا میں والہانہ استقبال پروزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کا یہ میرا پہلا دور ہ ہےلیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میں انتہائی برادرانہ اور شناسا چہروں سے مل رہا ہوں اور ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اس سے اخلاص اور سچی دوستی کی عکاسی ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں عظیم خوبیاں ہیں ،آپ کا مدنی وژن آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے ، آپ نے اپنے پورے سیاسی کیریئر کے دوران بے پناہ حوصلے صبر اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے،ملائیشیا آپ کی بصیرت افروز قیادت میں خطے اور دنیا میں مثالی ترقی کر رہا ہے،ملائشیا کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں انور ابراہیم کا اہم کردار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری انتہائی تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی اور ہم نے دو طرفہ تعلقات اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ہےاور مجھے اس بات پہ خوشی ہے کہ تمام اہم معاملات پر ہمارے خیالات یکساں ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم کا پاکستان کا گزشتہ سال کا دورہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک یادگار دورہ تھا اور اس سے پاکستان کے عوام کے لیے ان کے دل میں پائی جانے والی محبت اور خلوص کے جذبات کی عکاسی ہوئی۔ ملائیشیا کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے آپ کوئی اجنبی نہیں ،آپ نے وہاں بہت وقت گزارا،وہاں اپنی تعلیم حاصل کی، کراچی، لاہور شالیمار باغ کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ کی اردو بھی بہت اچھی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اس وژن کا اظہار کیا ہے کہ ہم کیسے باہمی اقتصادی اور تجارتی روابط کو فروغ دے سکتے ہیں اور مشترکہ منصوبے آگے بڑھا سکتے ہیں اور کس طرح ملائیشیا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور پاکستان کے سرمایہ کاروں کی طرف سے ملائیشیا میں سرمایہ کاری کو بڑھا سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور اقتصادی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں ملائیشیا کے وسیع تجربات سے استفادے کے خواہاں ہیں جن میں ملائیشیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کی جی ڈی پی اطمینان بخش طور پر بڑھ رہی ہے، اس کی عالمی تجارت اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے،یہ وہ شعبے ہیں جن میں پاکستان ملائیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان باہمی طور پرمشترکہ منصوبے شروع کرنے کا بھی خواہاں ہےجہاں ملائیشیا اور پاکستان کے ماہرین مل کر کام کریں،ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور اس سلسلے میں زراعت، ا ٓئی ٹی ،فنی و پیشہ ورانہ تربیت جیسے شعبے اہم ہیں،فنی تربیت کے شعبے میں پاکستان میں شاندار کام ہو رہا ہے، ہزاروں پاکستانی طلبا ملائیشیا میں قومی تعمیر میں بھرپور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں،ملائیشیا میں تقریبا ایک لاکھ 50 ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں،اس سے ہمیں بہت حوصلہ اور امید ملتی ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھا کر اورمل کر اپنی معیشتوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں جن سے دونوں ممالک کو مساوی فوائد حاصل ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیراعظم نے پاکستان سے گوشت کی درآمد کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے کوٹے کا اعلان کیا ہے اس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ملائیشیا کے درآمد کنندگان اور حکام پر واضح کرتے ہیں کہ ملائیشیا کے لیے گوشت کی برآمد کے کوٹے کو مارکیٹ پرائس میکنزم اور ملائیشیا کی کسٹم اتھارٹیز ،ملائیشیا کی فوڈ اتھارٹیز اور ملائیشیا کے صارفین کے لئے درکار حلال سرٹیفیکیشن کے تحت ریگولیٹ کیا جائے گا،میں آپ کو یقین دلاتا اور ضمانت دیتا ہوں کہ آپ کی تمام شرائط اور تقاضے پورے کیے جائیں گے اور انشاءاللہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کوٹے میں مزید اضافہ ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف نےملائیشیا کے وزیراعظم کی کتاب ’’سکرپٹ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزیراعظم انور ابراہیم کی کتاب ’’سکرپٹ‘‘کی رونمائی کی ہے ،یہ کتاب کوالالمپور ،اسلام آباد،لاہور،کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی ،’’سکرپٹ ‘‘ان کے مدنی وژن کا رہنما فریم ورک ہے ،یہ پائیداریت ،باہمی احترام ،جدیدیت، تحقیق و ترقی، خوشحالی اور باہمی اعتماد کا وژن ہے یہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال علامہ اقبال کی شاعری شکوہ ، جواب شکوہ،اسرار خودی اوراسلام کی تعلیمات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے کے حوالے سے مواد کا ملائیشیا میں ترجمہ اور اسے شیئر کیا گیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان فکری تبادلوں کی نئی راہیں کھلی ہیں۔وزیراعظم نے ملائیشیا ئی ہم منصب کے مطالبے پر علامہ اقبال کے یہ اشعار بھی پڑھے ۔۔۔’’خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے۔۔۔۔ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے‘‘۔وزیراعظم نے کہا کہ قومیں معجزوں سے نہیں انتھک محنت اور غیر متزلزل عزم سے بنتی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کل جب وہ اس عظیم ملک ،اپنے دوسرے گھر ،سے اسلام آباد روانہ ہوں گے تو پہلے سے زیادہ مطمئن اور متاثر ہوں گے اور عظیم قوم اور عظیم قیادت سے یہ سبق لے کر جائیں گے کہ ہم نے پاکستان کو ملائیشیا کی طرح ترقی یافتہ بنانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ عوام پر مشتمل ہماری قوم ایک عظیم قوم ہے اور ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہےجن کی عمر 15 سال سے 30 سال کے درمیان ہے،الحمدللہ وہ انتہائی ذہین اور باصلاحیت ہیں ،ہم انہیں بھرپور مواقع فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ مختلف شعبوں میں جدید تعلیم و ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکیں، اس میں مجھے کوئی شبہ نہیں کہ وہ پاکستان کے عظیم معمار بنیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کی کاروباری شخصیات کی بھی ملاقات ہو رہی ہے، میری دعا ہے کہ عظیم ملک ملائیشیا اسی طرح خوشحالی و ترقی کرتا رہے ، پاکستان ملائیشیا کی شراکت کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرےگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے پناہ معدنی وقدرتی وسائل، پانی، سمندر ،پہاڑ، زرخیز زمین جیسی نعمتوں سے مالامال کر رکھا ہے اور ہم آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں ۔
