پانی کا تحفظ پاکستان کی غذائی، معاشی اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے، سر دار ایاز صادق
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پانی کا تحفظ پاکستان کی فوڈ سکیورٹی، معاشی استحکام اور قومی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے، صاف پانی تک رسائی یقینی بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد: (پارلیمانی رپورٹر) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے،پانی زندگی ہے اور پانی کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، پانی کا تحفظ پاکستان کی فوڈ سکیورٹی، معاشی استحکام اور قومی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے، پانی کا مسئلہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، صاف پانی تک رسائی یقینی بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سیکرٹریٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ”واٹر گورننس“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے پاکستان کو درپیش آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو عارضی اقدامات سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار اور مستقل حل تلاش کرنا ہوں گے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پانی ذخیرہ کرنے اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر پائیدار واٹر ری سائیکلنگ نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ قیمتی آبی وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پانی کے ذخائر اور چھوٹے ڈیمز کی تعمیر پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کے موثر انتظام کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے وافر آبی وسائل سے نوازا ہے تاہم ان وسائل کو دانشمندی اور موثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل واٹر پالیسی پر موثر عملدرآمد اور ادارہ جاتی رابطے پائیدار آبی انتظام کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے پانی سے متعلق منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ عوامی پالیسیوں کی موثر نگرانی بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، پانی کے ضیاع میں کمی اور زیر زمین آبی ذخائر کی بحالی آبی تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی کہا کہ باہمی اختلافات کو بھلا کر اتفاق رائے سے پانی کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی تحفظ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔پارلیمانی ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقی کے اہداف کی کنوینر رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبی تحفظ پانی کی قلت کا مسئلہ نہیں بلکہ پانی کے وسائل کے پائیدار استعمال اور موثر انتظام سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آبی وسائل کو بہتر بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ملک کے وافر آبی وسائل کے تحفظ اور انہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 50 سال کے دوران پانی کا کوئی نیا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے باعث ملک میں محدود اور تیزی سے کم ہوتے آبی وسائل سے نمٹنے کے لیے موجودہ ذخائر کی گنجائش بڑھانے اور نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی یکطرفہ معطلی پاکستان کے خلاف پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں کئی روز تک پانی روکنے اور پھر ایک ہی وقت میں پانی چھوڑنے کے باعث ہونے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایسے خطرات سے نمٹنے اور آبی تحفظ یقینی بنانے کے لیے مزید آبی ذخائر کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال چوہدری نے ترقیاتی مالی معاونت میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کے برابر رہنے والا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026 میں کم ہو کر 0.6 فیصد رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018ء اور 2026ء دونوں میں پی ایس ڈی پی کے لیے تقریباً ایک کھرب روپے مختص کیے گئے تاہم مہنگائی کو مدنظر رکھا جائے تو حقیقی معنوں میں یہ رقم صرف تقریباً 250 سے 300 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے پی ایس ڈی پی کے موثر استعمال، مقامی حکومتوں کے لیے بہتر مالی معاونت اور قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط مالیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک بھر میں کامیاب مقامی حل کو وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔سیمینار میں ارکان قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی، فیصل امین خان، زیب جعفر، زہرا ودود فاطمی، کرن حیدر، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، شیر علی ارباب، رانا انصار، اختر بی بی، منیبہ اقبال، مہتاب اکبر راشدی، صبیحہ غوری، فرح ناز اکبر، سیدہ نوشین افتخار، غزالہ انجم، ماہ جبین خان عباسی اور شائستہ خان سمیت چیئرمین سی ڈی اے، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین وفاقی فلڈ کمیشن، چیئرمین ارسا، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آبی وسائل، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، ورلڈ بینک، واٹر ایڈ، یونیسیف اور آئی ڈبلیو ایم آئی کے نمائندگان نے شرکت کی۔
