Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

6ستمبر، یومِ دفاعِ پاکستان

 تحریر:  کوثرعباس قمی

 

 6 ستمبر، یومِ دفاعِ پاکستان 

وطن کی حفاظت۔،شجاعت، ایثار اور قومی یکجہتی کی لازوال داستان  

 

6 ستمبر پاکستان کی قومی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب وطنِ عزیز ایک بڑے فوجی حملے کا سامنا کر رہا تھا۔ 1965 کی جنگ میں پاکستانی افواج نے اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے غیر معمولی عزم، شجاعت اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔

یہ دن ہمیں ان سپاہیوں اور شہریوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

یہ صرف ایک جنگ کی تاریخ نہیں؛ یہ عزم، حوصلے، وفاداری اور ایثار کی تاریخ ہے۔

6 ستمبر 1965 کو بھارتی افواج نے بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔ لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی۔

پاکستان ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والی ریاست تھا، لیکن اس کے دفاع کے لیے کھڑے ہونے والوں کے حوصلے بلند تھے۔

پاک فوج کے جوانوں نے یہ ثابت کیا کہ جنگ میں صرف اسلحہ اور تعداد فیصلہ کن عوامل نہیں ہوتے؛ عزم، تربیت، قیادت، نظم و ضبط اور وطن کے لیے قربانی کا جذبہ بھی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔

اسلام میں اپنی جان، مال، گھر اور سرزمین کو ظلم و جارحیت سے بچانے کا تصور واضح طور پر موجود ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ

"جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے انہیں اجازت دی گئی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور بے شک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔”

(سورۃ الحج، 22:39)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ظلم اور جارحیت کے مقابلے میں دفاع ایک جائز اور فطری حق ہے۔

اسی طرح قرآن کا حکم ہے:

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا

"اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو۔”

(سورۃ البقرۃ، 2:190)

یہاں اسلام،  دفاع کے ساتھ ایک اہم اخلاقی اصول بھی بیان کرتا ہے:

دفاع کرو، مگر ظلم نہ کرو۔

6 ستمبر کا سب سے بڑا پیغام ہمارے شہداء کی قربانی ہے۔

وہ جوان جو اپنے گھروں، ماؤں، باپوں، بیویوں اور بچوں کو چھوڑ کر محاذ پر گئے، ان کے سامنے اپنی ذات نہیں بلکہ وطن کی سلامتی تھی۔

انہوں نے اپنے خون سے یہ پیغام لکھا:

وطن کی حفاظت صرف ایک ملازمت نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔

شہید کا مقام اسلام میں انتہائی بلند ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے:

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ

"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں۔”

(البقرۃ، 2:154)

لہٰذا شہداء کی یاد صرف ایک قومی رسم نہیں؛ یہ ان کے ایثار، وفاداری اور قربانی سے سبق لینے کا نام ہے۔

1965 قوم اور افواج کا باہمی اتحاد

1965 کی جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس وقت پاکستانی قوم نے اپنی افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

محاذ پر سپاہی لڑ رہے تھے تو شہروں میں عوام اپنے اپنے انداز میں وطن کے لیے کردار ادا کر رہے تھے۔

کسی نے خون دیا،

کسی نے امداد دی،

کسی نے دعائیں کیں،

کسی نے حوصلہ بڑھایا،

اور کسی نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا۔

یہی قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی اصل قوت ہوتی ہے۔

پاک فضائیہ کا تاریخی کردار

1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

فضائی محاذ پر پاکستانی پائلٹوں نے غیر معمولی جرات اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی قربانیاں بھی ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔

اسی طرح بحری محاذ پر پاک بحریہ نے بھی اپنی ذمہ داری ادا کی۔

اس لیے *یومِ دفاع صرف بری فوج کا دن نہیں بلکہ:

پاک فوج، پاک فضائیہ، پاک بحریہ اور پوری پاکستانی قوم کے اجتماعی دفاعی عزم کا دن ہے*۔

1965 کے معرکے میں میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری پاکستانی تاریخ کا روشن باب ہے۔

انہوں نے لاہور کے برکی کے محاذ پر غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان وطن کے دفاع پر قربان کر دی۔

ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:

شجاعت کا مطلب خوف کا نہ ہونا نہیں؛ بلکہ خوف کے باوجود حق اور ذمہ داری کے لیے ثابت قدم رہنا ہے۔

یومِ دفاع ہمیں صرف ماضی یاد نہیں دلاتا

اگر 6 ستمبر صرف ماضی کی ایک جنگ کی یاد بن کر رہ جائے تو ہم اس دن کا حقیقی پیغام کھو دیں گے۔

یہ دن ہم سے پوچھتا ہے:

کیا ہم آج بھی اپنے وطن کے لیے اتنے ہی مخلص ہیں؟

آج دشمن کا محاذ صرف سرحد پر نہیں۔

آج ملک کو درپیش خطرات میں:

دہشت گردی،

انتہا پسندی،

فرقہ واریت،

معاشی کمزوری،

کرپشن،

جھوٹ اور فریب،

جہالت،

منفی پروپیگنڈا،

اور قومی انتشار

بھی شامل ہیں۔

لہٰذا آج وطن کا دفاع صرف بندوق سے نہیں بلکہ علم، کردار، اتحاد، دیانت، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی اور قومی شعور سے بھی کرنا ہوگا۔

اسلامی معاشرے کا دفاع بھی ہماری ذمہ داری ہے

قرآن مجید فرماتا ہے:

وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ

"آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔”

(الأنفال، 8:46)

یہ آیت آج کے پاکستان کے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے:

دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک ہماری اپنی باہمی کمزوری ہو سکتی ہے۔

اگر قوم فرقوں، زبانوں، علاقوں، سیاسی اختلافات اور ذاتی مفادات میں تقسیم ہو جائے تو بیرونی خطرات کے مقابلے میں قومی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔

وطن سے محبت اور اسلامی ذمہ داری

وطن سے محبت انسان کی فطری وابستگی ہے۔

اسلام انسان کو اپنے گھر، خاندان، پڑوسیوں اور معاشرے کی حفاظت کی ذمہ داری دیتا ہے۔

لہٰذا وطن کی حفاظت، اگر اس کا مقصد انسانوں کی جان و مال، امن، عزت اور آزادی کا تحفظ ہو، ایک قابلِ احترام ذمہ داری ہے۔

لیکن اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ وطن سے محبت ظلم اور ناانصافی کا جواز نہیں بن سکتی۔

قرآن فرماتا ہے:

اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ

"عدل کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔”

(المائدہ، 5:8)

پس ایک مسلمان کا قومی جذبہ بھی عدل، اخلاق اور انسانی حرمت کے تابع رہتا ہے۔

شہداء سے ہمارا عہد

یومِ دفاع کے موقع پر ہمیں اپنے شہداء سے یہ عہد کرنا چاہیے کہ:

ہم پاکستان کی سلامتی کے لیے متحد رہیں گے۔

ہم اپنے ملک کو فرقہ واریت اور نفرت کی آگ میں نہیں جھونکیں گے۔

ہم دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوں گے۔

ہم جھوٹ، فساد اور بدعنوانی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں گے۔

ہم اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور کردار دیں گے۔

ہم اپنی افواج کے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے۔

اور سب سے بڑھ کر:

ہم پاکستان کو ایک مضبوط، پُرامن، باوقار، عادل اور متحد ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

6 ستمبر ہمیں بتاتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے محفوظ نہیں ہوتیں۔

قومیں محفوظ ہوتی ہیں:

اتحاد سے،

ایمان سے،

نظم و ضبط سے،

علم سے،

کردار سے،

قربانی سے،

اور اپنے وطن کے ساتھ مخلصانہ وفاداری سے۔

1965 کے شہداء نے اپنی جانیں دے کر وطن کی سرحدوں کی حفاظت کی۔

اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے کردار سے پاکستان کی نظریاتی، اخلاقی، معاشرتی اور قومی بنیادوں کی حفاظت کریں۔

سلام اے شہیدانِ وطن!

جنہوں نے اپنے لہو سے پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ کیا،

جنہوں نے اپنی جوانیاں وطن پر قربان کر دیں،

جنہوں نے دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہو کر شجاعت کی تاریخ رقم کی—

ہم تمہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

تمہارا خون ہماری امانت ہے،

تمہاری قربانی ہماری ذمہ داری ہے،

اور تمہاری یاد ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، وطن کے محافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اپنے وطن کی سلامتی، وحدت اور عزت کے لیے مخلصانہ کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

پاکستان پائندہ باد 

پاک افواج زندہ باد

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:11 − 5 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More