اے آئی کی بے لگام طاقت انسانیت کے لیے خطرہ، وولکر ترک کا عالمی برادری کو فوری انتباہ
مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو مل کر اس ٹیکنالوجی کے لیے متفقہ اور واضح حدود طے کرنے پر کام کرنا چاہیے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق
جنیوا: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری کو بہت دیر ہونے سے پہلے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ترقی سے متعلق مضبوط حفاظتی ضمانتیں اور واضح حدود مقرر کرنا ہوں گی۔
جنیوا میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک ایسی طاقت بن چکی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی پر تقریباً لامحدود اختیار دنیا کے صرف چند افراد کے ہاتھ میں موجود ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال عالمی سطح پر انسانی حقوق، سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو مل کر اس ٹیکنالوجی کے لیے متفقہ اور واضح حدود طے کرنے پر کام کرنا چاہیے تاکہ اے آئی کی ترقی انسانی اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رہے۔
وولکر ترک کا کہنا تھا کہ جدید مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل اور ناقابلِ سمجھوتہ حفاظتی ضمانتیں یقینی بنانے کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجیز سے وابستہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور انہیں کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو محض مصنوعی ذہانت کے فوائد پر توجہ دینے کے بجائے اس کے ممکنہ منفی اثرات اور خطرات کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر اے آئی کی ترقی کے ساتھ مناسب نگرانی، ضابطہ کاری اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوگا۔
وولکر ترک نے واضح کیا کہ کم از کم ان ممالک کو، جہاں مصنوعی ذہانت تیار کی جا رہی ہے، اور ان ممالک کو جو اے آئی کی عالمی سپلائی چین کا حصہ ہیں، باہمی تعاون سے ایسے متفقہ اصول وضع کرنے چاہئیں جن پر تمام متعلقہ فریق عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے واضح اور ناقابلِ خلاف ورزی حدود کا تعین ضروری ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجیز یا ان کے استعمال کی اجازت نہ دی جائے جو انسانی حقوق اور انسانی سلامتی کے لیے ناقابل قبول خطرات کا باعث بن سکتی ہوں۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی سے متعلق عالمی قواعد صرف چند ممالک یا کمپنیوں تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان میں تمام متعلقہ ممالک، ٹیکنالوجی تیار کرنے والے اداروں اور سپلائی چین سے وابستہ فریقوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔
وولکر ترک کے مطابق مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی صلاحیتوں کے پیش نظر عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکنا مقصد نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے مفاد میں استعمال ہو اور اس کے ممکنہ نقصانات سے لوگوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر عالمی برادری کے پاس احتیاطی اقدامات اٹھانے کے لیے وقت محدود ہے۔ اس لیے مستقبل کے ممکنہ خطرات کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی سے ایسے اصول اور ضمانتیں قائم کرنا ہوں گی جو انسانی حقوق، آزادی اور انسانی وقار کا تحفظ کرسکیں۔
