Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ایران کا آبنائے ہرمز کے باہر نئے ’’ممنوعہ زون‘‘ کا اعلان، بغیر اجازت داخل ہونے والے بحری جہازوں کو خبردار کردیا

ایران کا آبنائے ہرمز کے باہر نئے ’’ممنوعہ زون‘‘ کا اعلان، بغیر اجازت داخل ہونے والے بحری جہازوں کو خبردار کردیا

ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے باہر ایک نئے ’’ممنوعہ زون‘‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے بعض حصے بھی شامل ہوں گے، جبکہ زون کی حتمی حدود اور درست جغرافیائی نقاط بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین موحبی نے بدھ کو سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ ممنوعہ علاقہ تقریباً چابہار کی سمت سے شروع ہوگا اور بحیرہ عمان کے ایک حصے سے ہوتا ہوا بحیرہ عرب کے ایک حصے تک پھیلے گا۔ ان کے مطابق یہ علاقہ اس سمندری راستے کے قریب ہوگا جو آبنائے ہرمز تک پہنچتا ہے۔

حسین موحبی نے واضح کیا کہ جو بھی بحری جہاز ایرانی حکام سے رابطہ اور ہم آہنگی کے بغیر اس علاقے میں داخل ہوگا، اسے ایرانی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جہازوں کو مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے یا متعلقہ سہولیات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جہاز بغیر اجازت ممنوعہ علاقے میں داخل ہوتا ہے تو بعد میں آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی صورت میں اسے بعض خدمات، بشمول انشورنس اور دیگر متعلقہ سہولیات، فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی حکام کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے عارضی بحری راستہ کھولنے کے حوالے سے بات چیت میں ’’نمایاں پیش رفت‘‘ کی اطلاع دی گئی ہے۔ ایران اور عمان دونوں آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں۔

ایرانی فورسز نے 28 فروری کو امریکا کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف جوابی بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی اور جنگ سے پہلے رائج آزادانہ بحری آمدورفت کے نظام کی فوری بحالی نہیں کی جائے گی۔

ایرانی فورسز نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ ان 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جو ایرانی حکام سے رابطہ کیے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں مدد فراہم کی ہے اور اوسطاً 30 بحری جہاز روزانہ رات کے وقت اس راستے سے گزر رہے ہیں۔

ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے اتوار کو اس دعوے کے ردعمل میں کہا تھا کہ امریکا ہر رات تقریباً 5 سے 6 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کی کوشش کرتا ہے اور ان میں سے اکثر کو ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حسین موحبی نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی شرائط بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کو نئی دھمکیوں کا سلسلہ روکنا ہوگا، لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلا یقینی بنانا ہوگا اور یمن کی ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرنے چاہئیں اور ایران کی جوہری و میزائل صلاحیتوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:2 × 2 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More