ایران کے خلاف امریکی جارحیت اور ایرانی شہریوں کے خلاف مبینہ جرائم پر امریکا کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اسماعیل بقائ
ایران کی سفارت کاری ریاست کے دیگر ستونوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں آگے بڑھ رہی ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی سفارت کاری ریاست کے دیگر ستونوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں آگے بڑھ رہی ہے اور مسلح افواج کی حمایت کرتے ہوئے ایرانی عوام کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔
پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت اور ایرانی شہریوں کے خلاف مبینہ جرائم پر امریکا کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا کی معاشی جنگ صرف تہران کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ یہ دیگر ممالک کی خودمختاری اور آزاد تجارت کے اصولوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں اور ایرانی شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا جواب دینا ہوگا۔
ایرانی ترجمان نے امریکی حملوں میں ایرانی شہری بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اسے دہشت گردی کی کارروائی اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات اور جہازوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) میں پیش کیے گئے مسودہ قرارداد پر بات کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یہ اقدام ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے پیش کی گئی ’’سیاسی نوعیت کی رپورٹ‘‘ پر مبنی ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق سوال کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حملوں اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر محفوظ ہو گئی ہے۔
انہوں نے امریکا اور یورپی ممالک کے اس اقدام کو بھی غیر قانونی قرار دیا جس کے تحت ایران کے جوہری معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خطے میں بدامنی برقرار ہے
اسماعیل بقائی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت شدید بحران اور بدامنی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کے بقول 28 فروری سے شروع ہونے والی جارحانہ کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جبکہ امریکا کی معاشی جنگ بھی اسی نوعیت کے دباؤ اور جبری اقدامات کا ایک اور مظہر ہے۔
غزہ اور لبنان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اسرائیل پر بھی شدید تنقید کی۔ بقائی نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں اور ان کے مطابق غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔
مذاکرات ملکی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہیں
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کے مذاکراتی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ مذاکرات بذاتِ خود نہ اچھے ہیں نہ برے، بلکہ یہ ملکی امور اور قومی اہداف کو آگے بڑھانے کا ایک ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی سفارت کاری ریاست کے دیگر ستونوں کے ساتھ ہم آہنگی میں آگے بڑھتی ہے، مسلح افواج کی حمایت کرتی ہے اور ایرانی قوم کے قومی مفادات کو مدنظر رکھتی ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ سفارتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے وزارت خارجہ متعلقہ ریاستی اداروں اور حکام کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کی پابند ہے۔
