ایران نے ’اقتصادی جنگ‘ سے نمٹنے کے لیے خصوصی ہیڈکوارٹر قائم کردیا
تہران: ایران کی وزارتِ معیشت نے جنگی حالات کے دوران پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے، ان کی فوری نشاندہی اور عملی حل کے لیے خصوصی ’اقتصادی جنگ‘ ہیڈکوارٹر قائم کردیا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں اداروں تسنیم اور مہر کے مطابق خصوصی ٹاسک فورس وزارتِ معیشت کے تحت کام کرے گی، جس کا مقصد جنگ کے باعث کاروبار، تجارت، مالیاتی معاملات اور دیگر معاشی شعبوں کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرکے انہیں تیزی سے حل کرنا ہے۔
ایران کے نائب وزیرِ معیشت مرتضیٰ زمانیان نے کہا ہے کہ نئے نظام کے تحت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی مسائل کو مرکزی سطح پر مانیٹر کیا جائے گا اور ان کے لیے فوری اور عملی حل تلاش کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹاسک فورس کا بنیادی کام جنگی حالات سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی نشاندہی، ان کا جائزہ اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ان کے حل کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر کسی مسئلے کے حل کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری اداروں کی ضرورت پڑی تو ٹاسک فورس ان اداروں کے درمیان رابطہ کاری بھی کرے گی۔
مرتضیٰ زمانیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم معاشی معاملات سرکاری اداروں کے درمیان رابطے اور دفتری کارروائی میں تاخیر کا شکار نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ٹاسک فورس وزارتِ معیشت کے دائرہ اختیار میں آنے والے معاملات پر توجہ دے گی، تاہم ایسے مسائل جو وزارت کے اختیار سے باہر ہوں گے، انہیں حکومت کے اعلیٰ معاشی اداروں اور اقتصادی کمیشن کے ذریعے متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا۔
ایران کو اس وقت ایک طرف جنگی حالات کے باعث شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب کئی برس سے عائد امریکی پابندیاں بھی اس کی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں نے تجارت، مالیاتی روابط، سرمایہ کاری اور آمدنی کے مختلف ذرائع کو متاثر کیا ہے۔
حالیہ عرصے میں امریکا نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جن کا مقصد ایرانی معیشت اور اس کے عالمی مالیاتی و تجارتی روابط پر دباؤ بڑھانا بتایا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ’اقتصادی جنگ‘ ہیڈکوارٹر کا قیام دراصل جنگی حالات میں معاشی نظم و نسق کو بہتر بنانے، کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان فیصلہ سازی اور رابطہ کاری کو تیز کرنے کی کوشش ہے۔
امریکی معاشی دباؤ میں اضافہ
ایران کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے تہران کے خلاف فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی اور مالیاتی محاذ پر بھی اپنی پالیسی سخت کردی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کی آمدنی کے ذرائع محدود کرنا اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا تہران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے اگست میں ایران کے خلاف ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن ایرانی مالیاتی روابط کو نشانہ بنائے گا اور ایران کی معیشت کو عالمی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرے گا۔
بیسینٹ نے امریکی اقدامات کو ایران کے خلاف ایک ’اقتصادی حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا مقصد ایرانی معیشت کو چلانے والے اہم مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
انہوں نے بعد ازاں کہا کہ امریکا ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں کا تعاون بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق ایران کے ساتھ مالی معاملات کرنے والے ادارے بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ واشنگٹن نے ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری شعبوں سمیت مختلف اقتصادی شعبوں کو پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا ہے۔
امریکی مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی آمدنی کے اہم ذرائع کو محدود کرنا اور اس کی عالمی مالیاتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔
جنگی حالات میں معیشت بڑا چیلنج
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے خلاف سخت معاشی دباؤ کی پالیسی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اگست میں ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کو معاشی سہارا فراہم کرنے والے ممالک کو بھی ممکنہ معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے عزم کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتِ حال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام امریکی پابندیوں کو اپنے ملک پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں داخلی معیشت کو مستحکم رکھنا اور کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگی صورتحال، پابندیوں اور عالمی مالیاتی دباؤ کے بیک وقت موجود ہونے کے باعث ایران کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ایسے میں ’اقتصادی جنگ‘ ہیڈکوارٹر کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کتنی مؤثر بناتی اور معاشی رکاوٹوں کے حل کے لیے کتنی تیزی سے فیصلے کرتی ہے۔
