Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمتی تحریکیں تیز، بدخشاں میں نئے مسلح گروہ نے ضلع پر قبضے کا دعویٰ

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمتی تحریکیں تیز، بدخشاں میں نئے مسلح گروہ نے ضلع پر قبضے کا دعویٰ

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے لگی ہے، جبکہ مختلف صوبوں میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں اور اندرونی اختلافات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق شمال مشرقی صوبے بدخشان میں ایک نئے مسلح گروہ "سپاہیانِ میہن” نے ضلع یفتلی سفلی پر قبضے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بدخشان میں طالبان حکومت کو ایک جانب مزاحمتی تنظیموں کی کارروائیوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب طالبان کی صفوں میں بھی اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے مسلح گروہ نے طالبان کی حکمرانی کو مسترد کرتے ہوئے علاقے میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے، تاہم طالبان حکام کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل (SATP) کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اہم کمانڈر جمعہ خان فاتح اور طالبان قیادت کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدخشان میں جمعہ خان فاتح کے حامیوں اور طالبان کی مرکزی قیادت کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث مقامی سطح پر انتظامی اور سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔

ادھر بدخشان کے گورنر قاری مطیع الرحمان کو تقرری کے محض ایک ہفتے بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ مبصرین اس غیر معمولی تبدیلی کو طالبان کے اندرونی اختلافات اور بدخشان میں بگڑتی ہوئی صورتحال سے جوڑ رہے ہیں، اگرچہ طالبان حکومت نے اس فیصلے کی کوئی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی۔

دوسری جانب طالبان مخالف مزاحمتی تنظیمیں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) بھی بدخشان سمیت متعدد صوبوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان گروہوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ طالبان بھی ایسے دعوؤں کی تردید یا انہیں محدود نوعیت کے واقعات قرار دیتے رہے ہیں۔

سیاسی و سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا اور طالبان کی اندرونی صفوں میں اختلافات برقرار رہے تو افغانستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال مزید غیر یقینی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بدخشان جیسے حساس سرحدی صوبے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف طالبان حکومت بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔

افغانستان میں حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان حکومت بین الاقوامی سطح پر سفارتی قبولیت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، تاہم ملک کے مختلف حصوں میں مزاحمتی سرگرمیوں اور داخلی اختلافات کی اطلاعات اس کی حکمرانی کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More