موسمیاتی و معاشی جھٹکوں وخطرات سے نمٹنے کیلئے نظم و ضبط، ساکھ اور ادارہ جاتی مضبوطی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، سینیٹرمحمد اورنگزیب
مالیاتی تحفظ کی بحالی، معاشی اتار چڑھاؤ میں کمی اور پائیدار ترقی کے لیے مستقل مزاجی، ادارہ جاتی اصلاحات و منظم پالیسی سازی ناگزیر ہے، وفاقی وزیر خزانہ کا العلا کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد: (نیوز پلس) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ بار بار آنے والے معاشی اور موسمیاتی جھٹکوں وخطرات سے نمٹنے کے لیے نظم و ضبط، ساکھ اور ادارہ جاتی مضبوطی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، پاکستان میں مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح دس فیصد سے کم سطح سے بڑھ کر تقریبا بارہ فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے یہ بات پیرکوسعودی عرب میں ابھرتی ہوئی منڈیوں کی معیشتوں کے لیے العلا کانفرنس کے دوسرے روزجھٹکوں سے متاثرہ دنیا میں مالیاتی پالیسی کے عنوان سے اعلی سطح کے پینل مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے کہی۔وزیرخزانہ نے پاکستان کی حالیہ مالیاتی پیشرفت، جاری اصلاحات، اور معاشی نمو کو برقرار رکھتے ہوئے مالیاتی تحفظ کو ازسرِ نو مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بار بار آنے والے معاشی اور موسمیاتی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے نظم و ضبط، ساکھ اور ادارہ جاتی مضبوطی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں سے نمٹنے، محصولات کے حصول کو مضبوط بنانے، قرضہ جاتی خطرات میں کمی لانے اور ترجیحی ترقیاتی اخراجات کا تحفظ کرتے ہوئے معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے پاکستان کے تجربات سے شرکا کو آگاہ کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی ماضی کے تیزی اور مندی کے چکروں، مسلسل ڈھانچہ جاتی خساروں، بلند قرضوں کی سطح اور محدود مالی گنجائش کے پس منظر میں تشکیل پائی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان حالات میں گزشتہ دو سے تین برسوں کے دوران حاصل ہونے والی مالیاتی پیش رفت کا محتاط تحفظ نہایت اہم رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مسلسل پرائمری سرپلس حاصل کیے ہیں اور مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے تقریبا آٹھ فیصد سے کم کر کے لگ بھگ 5.4 فیصد کی سطح پر لایا گیا ہے، موجودہ سمت مزید کمی کے ساتھ اسے پانچ فیصد سے نیچے لانے کی طرف اشارہ کررہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ بہتری محصولات، اخراجات اور قرضہ جاتی محاذوں پر مربوط پیش رفت کا نتیجہ ہے۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ مالیاتی تحفظ کے بارے میں گفتگو پاکستان کے لیے محض نظری نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ایک موسمیاتی اعتبار سے کمزور ملک کے عملی تجربات سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کو ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے لیے بھی فوری بین الاقوامی اپیل کرنا پڑی تھی،اس کے برعکس بعد میں آنے والے وسیع پیمانے کے سیلابوں جنہوں نے متعدد صوبوں اور دریائی نظاموں کو متاثر کیا، کے دوران پاکستان محدود مالی گنجائش کے باوجود اپنے وسائل سے ردعمل دینے کے قابل ہوا جو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ مالیاتی تحفظ کی ازسر نو تعمیر بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے میں کس قدر مددگار ہوتی ہے۔ محصولات کاذکرکرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور تعمیل کو مضبوط بنانے کے لیے جاری کوششوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح دس فیصد سے کم سطح سے بڑھ کر تقریبا بارہ فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔انہوں نے ٹیکس اتھارٹی میں افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کے ذریعے آنے والی تبدیلی کو نمایاں کیا جس میں مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی پیداواری نگرانی کے نظام شامل ہیں تاکہ نفاذ کو بہتر بنایا جا سکے، محصولات کے ضیاع کو روکا جائے اور انسانی مداخلت کم کر کے بدعنوانی میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے شرکا کو مزید آگاہ کیا کہ ٹیکس پالیسی کے شعبے کو ٹیکس وصولی سے الگ کر کے وزارتِ خزانہ کے تحت منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ بجٹ سے متعلق فیصلے محض عددی اہداف کے بجائے معاشی قدر اور پالیسی ترجیحات کی بنیاد پر کیے جا سکیں جبکہ مجموعی مالیاتی نظم و ضبط بھی برقرار رہے۔اخراجات کے نظم و نسق پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے اور وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک قومی مالیاتی فریم ورک پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور حکومت کے تمام سطح میں مالیاتی ہم آہنگی اور نظم و ضبط کو مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔
قرضہ جاتی نظم و نسق کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان کا قرضہ جو تقریبا 74 فیصد تک پہنچ چکا تھا، اب کم ہو کر لگ بھگ 70 فیصد رہ گیا ہے۔انہوں نے مقامی سطح پر جاری لائیبیلٹی مینجمنٹ آپریشنز کا ذکر کیا جن کا مقصد قرضہ سروسنگ کی لاگت کو کم کرنا ہے جو بجٹ کا سب سے بڑا خرچ ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل مالیاتی نظم و ضبط سے قرضوں کے دباؤ میں مزید کمی آئے گی اور اضافی مالی گنجائش پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ مالیاتی استحکام اور اصلاحات کے ذریعے پیدا ہونے والی گنجائش کو ان شعبوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے جو ترقی کے عمل کوتیزکررہے ہیں ان میں انسانی ترقی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر اعلی نمو کے حامل شعبے شامل ہیں۔انہوں نے اعادہ کیا کہ خصوصا ان ممالک کے لیے جو بار بار ڈھانچہ جاتی اور موسمیاتی جھٹکوں کا سامنا کرتے ہیں کیلئے مالیاتی تحفظ کی بحالی، معاشی اتار چڑھاؤ میں کمی اور پائیدار ترقی کے لیے مستقل مزاجی، ادارہ جاتی اصلاحات اور منظم پالیسی سازی ناگزیر ہے۔
