چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکا اور ایران دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ امریکی ٹی وی
فیلڈ مارشل کے دورہ تہران نے مذاکرات کو کو نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دنیا ایک بار پھر ایک بڑے سفارتی موڑ پر کھڑی ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان خطرناک تناؤ، اور خطے میں جنگ کے بادل ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن وقت میں پاکستان نے خاموش سفارتکاری کے ذریعے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا۔ امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ تہران نہ صرف غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری حساس مذاکرات کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں ایک فیصلہ کن پیش رفت ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق جہاں خلیجی ممالک اور لبنان براہِ راست اس بحران کا حصہ بنے ہوئے ہیں، وہیں پاکستان واحد ملک کے طور پر سامنے آیا جس نے سفارتی حکمتِ عملی، سیاسی بصیرت اور عسکری ہم آہنگی کے ذریعے ایک ایسا مذاکراتی مسودہ تیار کیا جسے دونوں فریقوں تک کامیابی سے پہنچایا گیا۔ سی بی ایس نیوز نے اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے، جس نے ایک بار پھر اسلام آباد کو عالمی سفارتکاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران سے واپسی کے فوراً بعد مجوزہ مسودہ ایرانی اور امریکی قیادت کو جائزے کے لیے ارسال کیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل کو واشنگٹن اور تہران دونوں کا اعتماد حاصل ہے، جبکہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اس کامیاب ثالثی کا بنیادی ستون بنی۔
سی بی ایس نیوز نے مزید انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی رابطوں کے دوران پاکستان نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ اعتماد سازی کی فضا قائم رکھنے میں بھی اہم حصہ ڈالا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “My Favorite Field Marshal” قرار دے چکے ہیں، جو امریکی حلقوں میں پاکستانی عسکری قیادت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے ماضی کے تاریخی سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستان اس سے قبل امریکا اور چین کے درمیان تعلقات استوار کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکا ہے، اور اب ایک بار پھر خطے میں امن اور سفارتی توازن قائم کرنے کے لیے ایک مؤثر عالمی پل کے طور پر ابھر رہا ہے۔