دہشت گردی پر 100 فیصد تعاون چاہیے، سیاسی فائدہ اپوزیشن لے جائے، طلال چوہدری
، وزیر مملکت برائے داخلہ مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، دوسرے روز پہلے ڈرافٹ میں تمام سیاسی معاملات طے ہوگئے تھے
اسلام آباد: (نیوز پلس) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا اور دوسرے روز ابتدائی ڈرافٹ میں تقریباً تمام سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت میں سامنے آنے والی شرائط کے باعث مذاکرات ناکام ہوگئے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں شامل اپوزیشن رہنما اپنی پارٹی اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے دباؤ میں آجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے ہی روز حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال کا معاملہ اٹھایا گیا، جس پر ابتدائی طور پر اتفاق ہوا اور دہشت گردی سے متعلق نکات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ مذاکرات میں شامل بعض اپوزیشن رہنما وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات کے لیے پشاور گئے اور اگلے روز مذاکراتی ٹیم واپس آئی۔ ان کے مطابق حکومت کو رات گئے یقین دہانی کرائی گئی کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق کرتی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز بات چیت شروع ہونے سے قبل وزیر داخلہ نے فون کرکے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا کوئی نمائندہ بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے، تاہم اپوزیشن مذاکرات کاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ان پر اعتماد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے روز کے مذاکرات کے بعد اپوزیشن رہنما پشاور چلے گئے، جس کے بعد وزیراعظم نے وزیر داخلہ سے کہا کہ اپوزیشن کو جتنی سیاسی اسپیس دی جاسکتی ہے، دی جائے۔ وزیراعظم کا واضح مؤقف تھا کہ ملک کی بہتری مقدم ہے، اگر اس عمل سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ بھی پہنچتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کو 100 فیصد تعاون درکار ہے۔
وزیر مملکت کے مطابق مذاکرات کے دوسرے روز دہشت گردی کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے کی توقع تھی اور ابتدائی ڈرافٹ میں تقریباً تمام سیاسی معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرافٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سمیت دیگر معاملات بھی شامل تھے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ وہ اس پیش رفت کو ’’میثاق جمہوریت ٹو‘‘ کہیں گے، کیونکہ یہ مذاکرات میں ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ڈرافٹ کو رات 9 بجے حتمی شکل دی گئی، جسے وزیر داخلہ صدر مملکت کے پاس لے کر گئے۔ تاہم مذاکرات کے آخری لمحات میں حکومتی ٹیم مسلسل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رابطے میں رہی اور صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف روز شہدا کے جنازوں کو کندھا دیتے ہیں، یہ انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’روز جنازے ہم اٹھا رہے ہیں اور جنگ عوام کی لڑ رہے ہیں۔‘‘
طلال چوہدری نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے حکومتی مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایکشن پلان صرف حکومت کا نہیں بلکہ ملک کا متفقہ لائحہ عمل ہے، جو قرآن و سنت کی تعلیمات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں بنایا گیا نیشنل ایکشن پلان پختونوں کے خلاف تھا؟ کیا یہ نیشنل ایکشن پلان بانی پی ٹی آئی نے خود نہیں بنایا تھا؟
وزیر مملکت نے کہا کہ جہاں پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت یا فرقہ جلسہ نہیں کرسکتا، وہاں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے لوگ آزادانہ طور پر گھومتے ہوں تو اس صورتحال پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں سول سوسائٹی کا کوئی فرد محفوظ نہیں، تاہم پی ٹی آئی کے لوگ بظاہر محفوظ رہتے ہیں۔
طلال چوہدری نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ آپ کا کوئی مسلح ونگ ہے؟ کیوں وہ آپ کو پتھر بھی نہیں مارتے اور باقیوں پر خودکش حملے کرتے ہیں؟‘‘
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کو دستیاب تمام قانونی وسائل استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا حکومت سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ڈرونز استعمال نہ کرے؟
وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق رائے کے بعد اپوزیشن کو سیاسی اسپیس دینے پر بھی وزیراعظم نے آمادگی ظاہر کی تھی اور واضح کیا تھا کہ اپوزیشن کو جتنی سیاسی گنجائش درکار ہے، دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم آئندہ بات چیت مشروط طور پر ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک متعلقہ معاملات ختم نہیں ہوتے اور وزیر داخلہ کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں بیان کردہ نکات پر 100 فیصد عمل نہیں ہوتا، اس وقت تک مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پشاور میں لانگ مارچ کے باعث امتحانات کا مؤخر ہونا بھی ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال سے پیدا ہونے والی غلط فہمی دور ہونے کے بعد ملک میں اس طرح کے مارچ کی گنجائش نہیں ہوگی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ماں ہوتی ہے، لیکن جب بچے ماں کو نقصان پہنچانا شروع کردیں تو ریاست کو باپ کا کردار بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ایل پی ہو یا کوئی اور گروہ، اب کسی قسم کی ’’نان سینس‘‘ برداشت نہیں کی جائے گی اور ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔
