مکہ دفاعی اتحاد کا بڑا فیصلہ، مشترکہ افواج سعودی عرب میں فوری تعینات ہوں گی
سب ہیڈ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اجتماعی دفاعی عزم عملی شکل دینے پر اتفاق، خطرات کے خلاف متحدہ ردعمل کا اعلان
ریاض: (نیوز پلس) سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مکہ دفاعی اتحاد کے تحت مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملدرآمد، طے شدہ افواج اور فوجی صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے پر اتفاق
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے پیر کے روز مکہ دفاعی اتحاد کے تحت مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے، جس میں جاری خطرات کے پیش نظر طے شدہ افواج اور فوجی صلاحیتوں کو سعودی عرب میں فوری طور پر تعینات کرنا بھی شامل ہے۔
یہ فیصلہ ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سیاسی و دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا کہ اجلاس سعودی عرب اور مقدس مقامات کے خلاف حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تینوں ممالک کے اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ مؤقف کا مظہر ہے۔
خالد بن سلمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ تینوں ممالک سعودی عرب اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والی جارحیت کے خلاف متحد اور یک زبان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان جارحیتوں کے خلاف اجتماعی دفاعی روک تھام کو فعال کیا جائے گا اور مکہ دفاعی اتحاد کے فریم ورک کے تحت ان حملوں کے پس پردہ عناصر کے خلاف بھی مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
تینوں ممالک نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد فوجی تیاری، باہمی انضمام اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور انہیں ناکام بنانے کی اجتماعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
کمیٹی نے اجلاس سے قبل ہونے والے سیاسی اور فوجی مشاورتی اجلاسوں کے نتائج کا جائزہ لیا اور ایسی سفارشات کی منظوری دی جن میں مشترکہ دفاع اور خطرات کے خلاف متحدہ ردعمل کے لیے اتحاد کے عزم کی توثیق کی گئی۔
معاہدے کے تحت منظور شدہ انتظامات اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق ضروری افواج اور فوجی صلاحیتیں سعودی عرب کو فراہم کی جائیں گی اور انہیں فوری طور پر سعودی عرب میں تعینات کیا جائے گا۔
رکن ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے شہروں، شہری تنصیبات اور اقتصادی مراکز پر جاری حملوں کی بھی مذمت کی۔
تینوں ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی جارحیت یا خطرے کو مسترد کرنے کے اپنے ’’قطعی مؤقف‘‘ کا اعادہ کیا۔
پاکستان اور ترکیہ نے سعودی مسلح افواج کی چوکس اور مکمل تیاری، پیشہ ورانہ کارکردگی اور سعودی عرب کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ان کی صلاحیت اور مؤثر کردار کو سراہا۔
اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی کوششوں کے تحت کمیٹی نے پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کی مدت کے لیے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کردیا۔
رکن ممالک نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اتحاد کی ترقی اور اس کے مقاصد کے حصول میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
تینوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی رکن ملک کی سلامتی اجتماعی سلامتی کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ دفاع سے متعلق مکہ معاہدے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے سے دفاعی روک تھام کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی، مشترکہ دفاعی عزم کی ساکھ واضح ہوگی اور اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تینوں ممالک کے اتحاد اور عزم کا اظہار ہوگا۔
تینوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ دفاعی اقدامات کا عملی نفاذ مکہ دفاعی اتحاد کے مقاصد کو مزید مستحکم کرے گا اور رکن ممالک کو درپیش سکیورٹی خطرات کے خلاف باہمی تعاون اور فوری ردعمل کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔
