Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

عمان نے آبنائے ہرمز کے "فریم ورک آف انڈراسٹینڈنگ” کی منظوری دے دی، حتمی مسودہ جلد جاری ہوگا: ایرانی حکام

عمان نے آبنائے ہرمز کے "فریم ورک آف انڈراسٹینڈنگ” کی منظوری دے دی، حتمی مسودہ جلد جاری ہوگا: ایرانی حکام

تہران: ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سلطنت عمان نے آبنائے ہرمز سے متعلق تیار کیے گئے "فریم ورک آف انڈراسٹینڈنگ” کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن غساوی نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمان نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے مجوزہ "فریم ورک آف انڈراسٹینڈنگ” پر اصولی اتفاق کر لیا ہے، جبکہ اس کے حتمی مسودے کا باضابطہ اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری سفارتی مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک اس اہم سمندری گزرگاہ کے انتظام، بحری سلامتی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق مشترکہ فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں۔

حسن غساوی کے مطابق مجوزہ فریم ورک کا مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو کم کرنا، خطے میں استحکام کو فروغ دینا اور بین الاقوامی بحری تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کی حتمی منظوری ایران کی اعلیٰ قیادت کی توثیق کے بعد دی جائے گی، جس کے بعد اس کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار روزانہ منتقل کی جاتی ہے۔ اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان اس فریم ورک کو باضابطہ شکل دے دی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں بحری سلامتی بہتر ہونے کی توقع ہے بلکہ خلیجی ممالک اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی اعتماد بحال ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم ایرانی حکام کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی تمام شقیں سامنے آنے کے بعد ہی اس کے عملی اثرات اور دائرۂ کار کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے گا۔ اس وقت دونوں ممالک کی جانب سے تکنیکی اور قانونی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More