Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

طاقت کی زبان قبول نہیں، گھٹنے ٹیکیں گے نہ جوہری حق سے پیچھے ہٹیں گے، مذاکرات کیلئے تیار ہیں، پزیشکیان

طاقت کی زبان قبول نہیں، گھٹنے ٹیکیں گے نہ جوہری حق سے پیچھے ہٹیں گے، مذاکرات کیلئے تیار ہیں، پزیشکیان

غزہ عالمی اداروں کی ناکامی کی علامت بن چکا، فلسطین عالمی ضمیر پر کھلا زخم ہے: پزیشکیان

نیویارک: ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے لیے کسی کی اجازت کا محتاج نہیں، تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا تاہم پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر ایران کے خلاف حملوں، جوہری پروگرام پر دباؤ اور غزہ میں جاری صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طاقت، پابندیوں اور دھمکیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو دبایا نہیں جاسکتا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جامعات، طبی مراکز، اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، تاہم ایران نے اپنے دفاع میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران شہری آبادیوں کو ہدف نہیں بنایا۔

ایرانی صدر نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور منیاب کے ایک پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر کو کسی قانونی جواز کے بغیر قتل کیا گیا، جبکہ جنگ کے پہلے ہی روز ایک اسکول میں درجنوں طالبات جان سے گئیں۔

مسعود پزیشکیان

مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران گزشتہ دو سو برس سے کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے والا ملک نہیں رہا اور تہران اپنی طاقت کو جارحیت یا علاقائی بالادستی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران دوسروں کی عدم سلامتی میں اپنی سلامتی تلاش نہیں کرتا اور خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔

ایران کا پرامن جوہری ٹیکنالوجی سے دستبرداری سے انکار

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، تاہم پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا حصول اس کا فطری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور نہ ہی اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق سے دستبردار ہوگا۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے معائنے کے مطالبات کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کیوں نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن نہیں، اس لیے عالمی سطح پر جوہری نگرانی اور عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے اطلاق میں یکساں معیار اختیار کیا جانا چاہیے۔

غزہ کو نظرانداز کرکے امن ممکن نہیں، پزیشکیان

ایرانی صدر نے فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر بھی تفصیلی بات کی اور کہا کہ فلسطین عالمی برادری کے ضمیر پر ایک کھلا زخم ہے، جبکہ غزہ شہریوں کے تحفظ میں عالمی اداروں کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک قبضہ، جارحیت اور ناانصافی جاری رہے گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ بمباری اور محاصرے کے ذریعے مزاحمت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے فلسطینی عوام کے حقوق اور غزہ کی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ٹرمپ کے نام پیغام، ایران طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا

تقریر کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے کہا کہ پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں سے ایرانی عوام کی مزاحمت کم نہیں ہوگی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات اور بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران اپنے دفاع کے لیے کسی کی اجازت یا منظوری کا انتظار نہیں کرے گا۔

مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایرانی عوام دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور نہ ہی گھٹنے ٹیکیں گے، تاہم ایران مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:5 − 3 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More