عراقچی کا اقوام متحدہ پر کڑی تنقید، عالمی ادارے کی ساکھ متاثر ہونے کا دعویٰ
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں ناکامی کے باعث اقوام متحدہ پر عالمی اعتماد کم ہوچکا، جنرل اسمبلی میں ایرانی عوام کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کریں گے
نیویارک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارے پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیویارک پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ایسے وقت میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہورہا ہے جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد خطے کی صورتحال بدستور انتہائی حساس ہے اور تہران اسے عملی طور پر جنگی ماحول قرار دیتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے عوام کے حقوق، قومی مفادات اور اپنے مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایران کے لیے عالمی سطح پر اپنا مؤقف واضح کرنا انتہائی اہم ہے۔
عراقچی نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ پر عالمی اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے جنرل اسمبلی کے رواں سال کے موضوع ’’اعتماد کی بحالی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مرکزی موضوع خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی اداروں پر اعتماد کے حوالے سے سنگین مسائل موجود ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ بعض ممالک خود کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کے ضابطوں سے بالاتر سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے اتحادیوں کو بھی بعض اقدامات پر عملی طور پر استثنیٰ حاصل رہتا ہے۔
عباس عراقچی نے مغربی اور یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو ممالک انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ موجودہ صورتحال میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
نیویارک پہنچنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق رابطے کے دوران جنرل اسمبلی کے ایجنڈے، عالمی امن و سلامتی اور موجودہ بین الاقوامی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کا یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور سفارتی راستہ تلاش کرنے کے لیے رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی پیش رفت کے حوالے سے مختلف بیانات دے چکے ہیں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ ایسے میں عباس عراقچی کی نیویارک آمد اور جنرل اسمبلی میں ایران کے مؤقف کی پیشکش کو موجودہ بحران کے تناظر میں اہم سفارتی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔
