مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر خیبر پختونخوا حکومت کنٹرول کر رہے ہیں، رانا ثناء اللہ کا الزام
مذاکرات کی ناکامی میں سہیل آفریدی اور ان کے پیچھے موجود مراد سعید کا بنیادی کردار ہے
اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید اس وقت افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں بیٹھ کر خیبر پختونخوا کی حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بنانے میں بھی مراد سعید کا کردار ہے، جبکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سہیل آفریدی اور ان کے پیچھے موجود مراد سعید کا کردار شامل ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مراد سعید کی موجودہ لوکیشن افغانستان بتائی جا رہی ہے اور وہیں سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے معاملات پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ تاہم، ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
رانا ثناء اللہ نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب کیے جانے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بتایا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سہیل آفریدی کو جانتے تک نہیں تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو اس منصب پر لانے کے پیچھے مراد سعید کا کردار رہا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار کون؟
وزیراعظم کے مشیر نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پوری نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور پی ٹی آئی کے مطالبات کے مطابق وہ تمام پیشکشیں کیں جو ان کے بقول ممکن تھیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے مفاہمت اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔
رانا ثناء اللہ نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی اور مراد سعید کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر پی ٹی آئی قیادت کا یقین نہیں ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے سنجیدگی، لچک اور سیاسی مفاہمت ضروری ہوتی ہے، تاہم ان کے خیال میں متعلقہ قیادت کی جانب سے ایسا طرزعمل اختیار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر غور کیا اور اپنی جانب سے پیشکشیں بھی کیں، لیکن ان کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے سہیل آفریدی اور مراد سعید کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
خیبر پختونخوا میں حکومتی سیٹ اپ سوچ سمجھ کر بنایا گیا، رانا ثناء اللہ
رانا ثناء اللہ نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے مستقبل کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کو فی الحال خیبر پختونخوا میں کوئی ذمہ داری نہیں مل رہی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے لیے اس وقت جو حکومتی سیٹ اپ تشکیل دیا گیا ہے، وہ سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت صوبے کے موجودہ سیاسی انتظام کو ایک طے شدہ حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی قیادت، وزیراعلیٰ کی نامزدگی اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے معاملات صوبائی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے تازہ بیان نے ان معاملات پر جاری سیاسی بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سیاسی کشیدگی اور مذاکرات کا مستقبل
رانا ثناء اللہ کے بیان میں ایک جانب حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لیے نیک نیتی اور لچک کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت اور خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی قیادت پر تنقید کی گئی۔ ان کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس میں پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا کردار بھی اہم ہے۔
دوسری طرف، ان الزامات پر پی ٹی آئی یا متعلقہ رہنماؤں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ معاملے کے تمام پہلو واضح ہو سکیں۔ بالخصوص مراد سعید کی مبینہ موجودگی اور افغانستان سے صوبائی حکومت کے معاملات کنٹرول کرنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق کے بغیر انہیں رانا ثناء اللہ کے الزامات ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مجموعی طور پر رانا ثناء اللہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات بدستور برقرار ہیں، جبکہ مذاکرات کی ناکامی، خیبر پختونخوا کی قیادت اور صوبے کے حکومتی سیٹ اپ سے متعلق تنازعات سیاسی منظرنامے میں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔
