Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ہمیشہ قانون کی بالادستی کیلئے کام کیا ، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیحات میں شامل ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

ہمیشہ قانون کی بالادستی کیلئے کام کیا ، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیحات میں شامل ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

پہلے آئے کیسز کو پہلے دیکھ رہے ہیں، ہم یہ نہیں کریں گے سب سے نیچے سے کوئی کیس اٹھا کر اوپر لے آئیں

اسلام آباد:  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا ہے کہ نظام انصاف میںمصنوعی ذہانت کا استعمال ہونا چاہیے مگر ہم اس کے لیے ابھی فوری طور پر تیار نہیں، ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو موثر بنانا ہے، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیحات میں شامل ہے، ہمیشہ قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا ہے۔ججز اپنی چھٹیوں میں جہاں جانا چاہتے ہیں جاسکتے ہیں تاہم میں نے یہ واضح کردیا ہے کہ جب عدالتی کام ہورہا ہوتوپھر اس کے لئے چھٹی لینا ہوگی اور اس حوالہ سے طریقہ کارسپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دیا گیا ہے سب کچھ تحریری صورت میں ہوگا۔

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے جبری لاپتہ افراد کے مسئلہ پر سنجیدہ توجہ دی ہے اور کسی گرفتار شخص کی 24گھنٹے کے دوران عدالت میں پیشی یقینی بنانے کے حوالہ سے میکنزم کی تیاری کے لئے کام جاری ہے جو سائل وکلاء کی فیس اداکرنے کے قابل نہیں انہیں ماتحت عدالتوں سے سپریم کورٹ تک مفت وکیل کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ ایک سال کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے خلاف 64شکایات کے فیصلے کئے ہیں، 72شکایات پر اراکین کی جانب سے سکروٹنی کاکام جاری ہے اور مزید 65مزید شکایات اراکین کو غور کے لئے بھجوانے کے لئے تیار ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 22863کیسز کے فیصلے کئے گئے۔ جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران زیر التواء کیسز کی تعداد 60635سے کم ہوکر56943پرآگئی ہے۔ 2023-24کے16649 کے مقابلہ میں 2024-25میں 22863کیسز کے فیصلے کیئے گئے۔ وکلاء کی جانب سے 2024-25میںگزشتہ سال کی 22425التواء کی درخواستوں کے مقابلہ میں 56449التواء کی درخواستیں دائر کی گئیں،شام کی عدالتیں شروع کرنے کیلئے تیار ہیںتا ہم وکلا کو التوا نہیں ملے گا ۔

ان خیالات کااظہار چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نئے عدالتی سال کے موقع پر سپریم کورٹ آڈیٹوریم میںمنعقدہ جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز، سرکاری لاء افسران، وکلاء اور عدالتی عملے نے شرکت کی۔ تقریب سے اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان،پاکستان بارکونسل سے وائس چیئرمین چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ اور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان میاں محمد رئوف عطانے بھی خطاب کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نئے عدالتی سال کی اس تقریب کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا،دوسری تقریب1979میں منعقد ہوئی پھر 2004 سے اس تقریب کو باقاعدگی سے منانا شروع کیا، یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم سب اپنی کارکردگی پر نگاہ ڈالیں۔ان کا کہنا تھا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس کی، ہم نے پانچ بنیادوں پر اصلاحات شروع کیں، ڈیجیٹل کیس فائلنگ کا نظام وضع کیا گیا، ای سروسز کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نظام انصاف میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال ہونا چاہئے، ہم مگر اس کیلئے ابھی فوری طور پر تیار نہیں ہیں، آج اعلان کر رہا ہوں کہ ہم نے اندرونی آڈٹ بھی کروایا ہے، ججز پر چھٹیوں میں کہیں جانے پر کوئی پابندی نہیں، عدالتی کام کے دوران چھٹیوں کیلئے ضابطہ بنایا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریڈ زون میں ہوتے ہوئے ججز کو زیادہ پروٹوکول کی ضرورت نہیں، میرے ساتھ پروٹوکول کی صرف 2گاڑیاں ہوتی ہیں،اسلام آباد یا ریڈزون سے باہر یا کسی خطرے کے پیش نظر اضافی سکیورٹی مہیا کی جائے گی، تمام ججز نے سکیورٹی سے متعلق ضابطے پر اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ہر کوئی بات کرتا ہے، 61 ہزار فائلیں ڈیجیٹلی اسکین ہوں گی اور پراجیکٹ چھ ماہ میں مکمل ہوجائے گا، کیسز کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے مقرر کیا جائے گا، ڈیجیٹل اسکیننگ پراجیکٹ کامیاب ہونے پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال شروع ہوگا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ سب کی ہے، فیسیلیٹیشن سینٹر میں تمام انفارمیشن دی جائے گی، فیسیلیٹیشن سینٹر یکم اکتوبر سے مکمل طور پر کام شروع کردے گا، ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو موثر بنانا ہے، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیحات میں شامل ہے، ہمیشہ قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ رولز کو ایک دن میں نہیں بنایا جاسکتا،مجوزہ رولز کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے، کمیٹی جو تجویز کرے گی اس کے مطابق آگے چلیں گے، جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست سال بھر چیف جسٹس کے کمرے میں پڑی رہتی تھی۔چیف جسٹس  نے کہا کہ میرے ساتھ سکیورٹی کی 9 گاڑیاں ہوتی تھیں، میں نے کہا ریڈ زون میں عدالت اور رہائش ہے اتنی سکیورٹی کی ضرورت نہیں، اپنی سکیورٹی کی گاڑیاں کم کر کے صرف دو رکھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ رولز میں ججز کی چھٹیوں کا معاملہ واضح کیا، عدالتی تعطیلات کے دوران کسی جج کو اجازت کی ضرورت نہیں، عام تعطیلات کے علاوہ چھٹی کیلئے بتانا لازمی ہوگا، جو سائل وکیل کرنے کی استعداد نہیں رکھے گا اسے مفت قانونی معاونت ملے گی، مجسٹریٹ سے سپریم کورٹ تک یہ سہولت میسر ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کیخلاف 64 شکایات کا فیصلہ ہو چکا،72 شکایات رائے کیلئے ممبرز کو دی گئی ہیں، باقی 65 کیسز رہ  گئے ہیں، اس ماہ کے آخر تک سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ ہوگی، باقی 65 کیسز بھی ججز کو دے دیے جائیں گے، اس معاملے پر اسی ماہ کے آخر میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے آئے کیسز کو پہلے دیکھ رہے ہیں، ہم یہ نہیں کریں گے سب سے نیچے سے کوئی کیس اٹھا کر اوپر لے آئیں، رواں سال وکلا نے 56 ہزار التوا کی درخواستیں دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ چھٹیاں کرتے ہیں، ججز تین مہینے کی چھٹیاں نہیں کرتے، تین ماہ کا دورانیہ ہے جس میں وہ ایک ایک ماہ چھٹی کرتے ہیں، باقی عرصے میں ججز رجسٹری میں بیٹھے ہوتے ہیں، ہم دوپہر کے بعد بھی سماعتیں کرنے کو تیار ہیں، اس کے بعد لیکن کوئی التوا نہیں ہو گا۔اس موقع پر سپریم کورٹ میں فسیلیٹیشن سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا،

 چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے دیگر ججز کے ساتھ فسیلیٹیشن سینٹر کا افتتاح سوموار کے روز سپریم کورٹ میں پہلے داخل ہونے والے  سائل سے کروایا۔چیف جسٹس افتتاح کرنے والے سائل ہو پھولوں گاگلدشتہ بھی پیش کیا۔ جبکہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سینٹر اور وکلاء کے دفاتر کابھی افتتاح کیا گیا۔ پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ آف پاکستان ذولقرنین نے چیف جسٹس کے ہمرہ میڈیا سینٹر کاافتتاح کیا جبکہ وکلاء کے دفتر کاافتتاح صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن میاں محمد رئوف عطاء نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اوردیگر ججز کے ہمراہ کیا۔ZS

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More