پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن، جی ڈی پی 4 فیصد تک پہنچنے کی توقع: وزیر خزانہ
اپریل میں پاکستان نے بھاری بیرونی ادائیگیاں کیں، 75کروڑ ڈالرز کا یورو بانڈ جاری کیا، وفاقی وزیرخزانہ
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور رواں مالی سال کے دوران شرح نمو (جی ڈی پی) تقریباً 4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ای یو پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ رہا ہے۔ ان کے مطابق مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب ڈالر سے زائد سرپلس رہا جبکہ ترسیلات زر 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، جس میں مارچ کے دوران 260 ملین ڈالر موصول ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپریل میں پاکستان نے بھاری بیرونی ادائیگیاں کیں اور 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا گیا، جبکہ مئی کے وسط میں 250 ملین ڈالر کا پانڈا بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ جون کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
نجکاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت اس پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے اور قومی ائیر لائن کی کامیاب نجکاری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بڑے کاروباری گروپس کنسورشیم کی صورت میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور لاہور اور اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی نجکاری بھی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔
پنشن اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اس نظام میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور آئندہ سال سے مسلح افواج کے لیے کنٹری بیوٹری پنشن سسٹم نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹو کرنسی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے، کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں اور ٹوکنائزیشن کے عمل کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
آخر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی توانائی بحران کے باوجود پاکستان میں توانائی کی فراہمی کی صورتحال بہتر رہی، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا برقرار رہنا ایک مثبت پیشرفت ہے جو خطے میں امن کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
