پاکستان امریکا معاشی شراکت داری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، امریکی ناظم الامور
ملازمتیں پیدا کرنے ، جدت کو فروغ دینے اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھنے کیلئے پاکستان امریکا اقتصادی شراکت کی اس سے بہتر مثال کیا ہو سکتی ہےم نیٹالی بیکر
امریکا کی قائم مقام سفیر (چارج ڈی افیئرز) نیٹالی بیکر نے تجارت، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ بات ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں سامنے آئی۔
بیان کے مطابق نیٹالی بیکر نے 25 سے 31 جنوری تک صوبہ سندھ کا سرکاری دورہ کیا، جس دوران انہوں نے سیاسی قیادت، کاروباری شخصیات اور مقامی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
امریکی مشن کے مطابق اس دورے کا مقصد اقتصادی ترقی، علاقائی استحکام اور امریکی جدت و مہارت کے ذریعے پاکستان اور امریکا کی مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانا تھا۔
نیٹالی بیکر کی مختلف سرگرمیوں سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تجارت، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
دورے کے دوران انہوں نے سکھر میں بڑے صنعتی اداروں کا معائنہ کیا، جن میں امریکی کمپنی مونڈیلیز انٹرنیشنل کے تعاون سے قائم کانٹینینٹل بسکٹ فیکٹری بھی شامل ہے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت کو فروغ دینے اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھنے کے لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایک بہترین مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی کمپنیاں اور جدید ٹیکنالوجیز پاکستان میں صنعتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سپلائی چین کے نظام کو جدید اور مستحکم کر رہی ہیں۔
نیٹالی بیکر نے میرپورخاص میں شوگر مل، ایتھانول، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پیپر پلانٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں امریکی ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے جدید نظام معیاری پیداوار اور امریکی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیمیکل پلانٹ پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس سے فضلہ کم ہوتا ہے، قدر میں اضافہ ہوتا ہے اور پاکستانی مصنوعات عالمی سپلائی چین کا حصہ بنتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مضبوط مقامی صنعت اور دریائے سندھ کی بدولت دستیاب قابلِ اعتماد زرعی وسائل دونوں ممالک میں پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
دورے کے دوران نیٹالی بیکر نے لاڑکانہ کے علاقے گڑھی خدابخش میں بھٹو خاندان کے مزارات پر بھی حاضری دی اور ان کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو سراہا۔
انہوں نے ہندو کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات بھی کی، جہاں بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی قائم مقام سفیر نے حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیل سرحدوں سے بالاتر ہو کر لوگوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بیان کے مطابق حیدرآباد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ایک نئی کرکٹ ٹیم کا مرکز بھی بنے گا، جس کی تشکیل اور ترقی میں ایک امریکی سرمایہ کار تعاون فراہم کرے گا۔
دوسری جانب امریکی مشن کی جاری سرگرمیوں کے تحت کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل کے سیاسی و اقتصادی مشیر پیٹر مکشیری نے سکھر کے میئر ارسلان اسلام شیخ اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر اویس قادر شاہ سے ملاقات کی، جہاں مقامی حکومت اور منصفانہ تجارتی تعلقات کے فروغ پر گفتگو ہوئی۔
پیٹر مکشیری نے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے اساتذہ اور طلبہ سے ملاقات کی اور امریکی معاونت سے چلنے والے ایس ٹی ای ایم پاورڈ پروگرام کا جائزہ لیا۔ یہ پروگرام وینڈر بیلٹ یونیورسٹی کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے اور نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری مواقع کے لیے جدید مہارتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
