نیتن یاہو ایران سے امن کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں، امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس رپورٹس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ دیرپا امن معاہدے کے لیے امریکی کوششوں کو متاثر یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کو لبنان میں جاری جنگ کے حوالے سے اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جو امن عمل کے لیے رکاوٹ بن جائیں۔
امریکی انٹیلیجنس کے جائزوں، جن میں رواں ہفتے گردش کرنے والی ایک رپورٹ بھی شامل ہے، کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے خلاف لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ مؤقف ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے ایک اہم جز، یعنی تمام محاذوں پر جنگ بندی، سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق تازہ انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال متوقع قومی انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کی سیاسی بقا اس تاثر سے وابستہ ہے کہ وہ لبنان سے اسرائیلی فوجوں کا انخلا نہیں کریں گے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کریں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کی بعض شرائط سے مطمئن نہیں، کیونکہ ان کے بقول یہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی اسرائیلی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اسرائیلی قیادت کا خیال ہے کہ ممکنہ معاہدہ حزب اللہ کے خلاف اس کی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کو محدود کر سکتا ہے۔
