Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

معاہدے کے خلاف ورزی پر امریکا کے ساتھ 60 روزہ مذاکراتی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، ایران

معاہدے کے خلاف ورزی پر امریکا کے ساتھ 60 روزہ مذاکراتی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، ایران

مطابق اگر مقررہ مدت کے دوران کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پاتا تو مذاکرات کی مدت میں توسیع کی گنجائش بھی موجود تھی۔ ترجمان

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ مفاہمتی یادداشت میں ایران اور امریکا کے درمیان دو بنیادی معاملات پر مذاکرات کے لیے تقریباً 60 روز کا عرصہ زیرِغور آیا تھا۔ ان میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر بات چیت شامل تھی۔ امریکا کی جانب سے مفاہمت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس مدت کی اب کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔

تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ 18 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد زیرِبحث آنے والی 60 روزہ مذاکراتی مدت کو غیر متعلق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مفاہمت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس مدت کی اب کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ 18 جون کی مفاہمتی یادداشت میں باضابطہ طور پر 60 روزہ ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ایران اپنی خارجہ پالیسی اور اہم فیصلے کسی دباؤ، دھمکی، الٹی میٹم یا مقررہ مدت کے تحت نہیں کرتا۔

اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ مفاہمتی یادداشت میں ایران اور امریکا کے درمیان دو بنیادی معاملات پر مذاکرات کے لیے تقریباً 60 روز کا عرصہ زیرِغور آیا تھا۔ ان میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر بات چیت شامل تھی۔

ایرانی ترجمان کے مطابق اگر مقررہ مدت کے دوران کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پاتا تو مذاکرات کی مدت میں توسیع کی گنجائش بھی موجود تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے یادداشت پر دستخط کے چند ہی ہفتوں بعد اس کی ’’سنگین اور وسیع پیمانے پر‘‘ خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔

بقائی نے کہا کہ جب مذاکرات کا عمل ہی شروع یا آگے نہیں بڑھا تو 60 روزہ مدت کے حوالے سے بحث بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی مخصوص مدت کے اندر فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ میں نہیں لایا جا سکتا۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز، خلیج عرب اور خلیج عمان سے متعلق تہران کے مؤقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ ایران کے خودمختار حقوق سے متعلق موجودہ قوانین پہلے ہی نافذ ہیں۔

ان کے مطابق وزارت خارجہ خطے میں ایران کے حقوق سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر ایرانی پارلیمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ وزارت خارجہ اس حوالے سے زیرِغور قانون سازی پر اپنے ماہرین کی رائے پہلے ہی پیش کر چکی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید تجاویز بھی دے سکتی ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ وزارت خارجہ زمینی حقائق اور موجودہ قوانین دونوں کو مدنظر رکھ کر اپنی پالیسی مرتب کرتی ہے، جبکہ ایرانی آئین کے تحت پارلیمنٹ کا کردار واضح ہے۔ ان کے بقول وزارت خارجہ قانون سازی کے تمام مراحل میں پارلیمنٹ کے ساتھ ضروری تعاون کی پابند ہے۔

ایرانی حکومت کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔

تہران کی جانب سے 60 روزہ مذاکراتی مدت کو غیر مؤثر قرار دینے سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور جوہری معاملے پر آئندہ مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر اہم سوال بن گئے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More