مصدق ملک کا موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری علاقوں میں عملی اقدامات تیز کرنے پر زور
ڈاکٹر مصدق ملک سے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی افسر اوڈیسیہ اینجیلو باریوس کی ملاقات
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہروں اور غریب و کمزور آبادیوں کے مسائل کے حل کے لیے طویل طریقہ کار اور ترقیاتی اصطلاحات کے بجائے عملی، کمیونٹی پر مبنی اور دیرپا اقدامات پر زور دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بات بولیویا سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی افسر مس اوڈی اینجیلو (Oddy Angelo) سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں شہری ترقی، موسمیاتی لچک، پانی و نکاسی آب، سیلاب سے نمٹنے اور کمزور آبادیوں کے لیے عملی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور بین الاقوامی تعاون کا حتمی مقصد زمینی سطح پر عملی کام اور عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا، “ہمیں مؤثر اور نتیجہ خیز کام چاہیے۔ مؤثر پالیسی تجاویز لائیں، ہم تعاون کریں گے اور اسے عملی جامہ پہنائیں گے۔” انہوں نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ غیر ضروری تاخیر اور رکاوٹوں کو کم کرکے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو مزید پیچیدہ اصطلاحات کے بجائے عملی حل درکار ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں عوام کو آلودہ پانی، سیلاب، ناقص نکاسی آب اور بنیادی شہری سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، “ایک منصوبہ بہت سے لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے تشکیل دیے جائیں جو کمیونٹی کی شمولیت سے مکمل ہوں، خود کفیل ہوں اور کامیاب ہونے کی صورت میں ملک کے دیگر علاقوں میں بھی نافذ کیے جا سکیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مختلف اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے ماضی میں اچھا کام کیا گیا ہے، تاہم یہ اقدامات اکثر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے مجموعی اثرات کو مؤثر انداز میں سامنے نہیں لایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب منصوبوں کی نشاندہی، ان کے نتائج کو اجاگر اور انہیں وسیع پیمانے پر نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ اقدامات آگے چل کر قومی ایجنڈے کا حصہ بن سکیں۔
وفاقی وزیر نے آلودہ پانی والے علاقوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، سیلاب سے تحفظ اور موسمیاتی لچک کے منصوبوں سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
نیشنل اربن اسٹریٹیجی پر تیز رفتاری سے عملدرآمد
وفاقی وزیر نے نیشنل اربن اسٹریٹیجی کو پالیسی سے عملی اقدامات میں تیزی سے منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ وفاقی و صوبائی اداروں، اقوام متحدہ کے اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
انہوں نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے بزنس اور انوویشن آئیڈیاز مقابلہ شروع کرنے کی تجویز بھی دی، جس کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، عوامی تحفظ، کمزور شہری علاقوں، سیلاب سے نمٹنے، ٹیکنالوجی، ایجادات، پانی و نکاسی آب اور گرین انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں میں تخلیقی حل تلاش کیے جا سکیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو قومی مسائل کے عملی حل کے لیے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ترقیاتی وسائل کا فائدہ براہ راست کمیونٹیز تک پہنچنا چاہیے اور مقامی آبادی کو منصوبوں کی تشکیل اور انہیں پائیدار بنانے کے عمل میں مؤثر طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں صلاحیت، خیالات اور انسانی وسائل کی کمی نہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیالات کو تیزی سے عمل میں، کامیاب منصوبوں کو قابلِ توسیع ماڈلز میں اور پالیسی مباحث کو عوامی مسائل کے عملی حل میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا اصل پیمانہ سادہ ہونا چاہیے: کم تاخیر، زیادہ عملی کام اور کمزور کمیونٹیز کی زندگیوں میں حقیقی بہتری۔
