Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

فائیوجی سپیکٹرم کی نیلامی پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے تاریخی قدم ہے، شزا فاطمہ خواجہ

فائیوجی سپیکٹرم کی نیلامی پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے تاریخی قدم ہے، شزا فاطمہ خواجہ

 سروسز پہلے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں پانچ سے چھ ماہ کے اندر شروع کی جائیں گی، 4 جی سروسز میں بہتری آئے گی،  وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے فائیوجی سپیکٹرم کی نیلامی ایک تاریخی قدم ہے جو ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنائے گا اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط کرے گا، سروسز پہلے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں پانچ سے چھ ماہ کے اندر شروع کی جائیں گی، نیلامی کے چار سے پانچ ماہ کے اندر لوگوں کو 4 جی سروسز میں بہتری نظر آنا شروع ہو جائے گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کونیکسٹ جنریشن موبائل سروسز فائیوجی کے لیے سپیکٹرم نیلامی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل(ر)حفیظ الرحمٰن اور ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کئی ٹیکنالوجی انقلاب دیکھ چکا ہے، لیکن موجودہ ڈیجیٹل تبدیلی کا مرحلہ ملک کے لیے خاص طور پر اہم ہے ۔انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں نے مل کر اس نیلامی کے لیے سپیکٹرم کی دستیابی یقینی بنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے حوصلہ افزا لمحہ ہے کیونکہ اس سے ملک نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کی طرف بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2014 سے 2016 کے درمیان سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت میں 3 جی اور 4 جی کے دور میں قدم رکھا۔ اس کے بعد کوئی بڑی سپیکٹرم نیلامی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کے معیار اور صارفین کے لیے مسائل پیدا ہوئے۔شزا فاطمہ نے کہا کہ یہ نیلامی نہ صرف 5 جی سروسز متعارف کرائے گی بلکہ موجودہ 4 جی نیٹ ورکس کے معیار اور صلاحیت میں بھی بہتری لائے گی۔انہوں نے کہا کہ تیز، قابلِ اعتماد اور سستا انٹرنیٹ اب شہریوں کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور ڈیجیٹل رابطہ کاری معیشت، زراعت، صنعت اور قومی سلامتی جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع کو تیز کرنے کے لیے رائٹ آف وے کے چارجز بھی ختم کر دیے ہیں تاکہ ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کی توسیع ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جلد ہی ایک قومی فائبرائزیشن منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا تاکہ ٹیلی کام کمپنیاں سپیکٹرم حاصل کرنے کے بعد اپنے انفراسٹرکچر کو مزید وسعت دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ نیلامی کا فریم ورک مختلف اداروں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا جن میں سپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی، وزارت خزانہ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیلی کام تنظیموں نے پاکستان کے نیلامی فریم ورک کو سراہا ہے۔ موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران ہونے والی گفتگو میں بھی کچھ ممالک نے ان انتظامات کی تعریف کی۔انہوں نے مزید کہا کہ نیلامی کے چار سے پانچ ماہ کے اندر لوگوں کو 4 جی سروسز میں بہتری نظر آنا شروع ہو جائے گی جبکہ 5 جی سروسز پہلے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں پانچ سے چھ ماہ کے اندر شروع کی جائیں گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر برائے آئی ٹی امین الحق سرکاری اداروں اور مسلح افواج کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے قومی مفاد میں سپیکٹرم کو کمرشل استعمال کے لیے دستیاب بنانے میں تعاون کیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام سیکٹر میں ترقی وزیر اعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینا، نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی تربیت دینا، آئی ٹی برآمدات بڑھانا اور کیش لیس معیشت کو فروغ دینا ہے۔اس موقع پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل(ر)حفیظ الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر وہ دن آ گیا جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔

انہوں نے تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سپیکٹرم نیلامی کو ممکن بنایا اور کہا کہ سپیکٹرم کی دستیابی سب سے بڑا چیلنج تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے اور فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ نے مل کر کام کیا تاکہ سپیکٹرم دستیابی یقینی بنائی جا سکے،اور 5 جی سروسز اورجدید انٹرنیٹ سہولیات دور دراز علاقوں تک پہنچائیں جاسکیں۔انہوں نے 5 جی کو “ڈیجیٹل شاہراہ” اور پاکستان کے مستقبل کا انجن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایک نئے تکنیکی دور کے آغاز کی علامت ہے۔پی ٹی اے چیئرمین نے مزید بتایا کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیے ہیں، جو پہلے 36 ہزار روپے فی کلومیٹر تھے اور اب صفر کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیلی کام صنعت کی مدد کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں اور اب ٹیلی کام آپریٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسپیکٹرم نیلامی میں فعال طور پر حصہ لیں۔

بشکریہ: اے پی پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More