Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سعودی عرب نے یورپی ریفائنریوں کو تیل کی ترسیل منسوخ کردی، عالمی منڈی میں بحران مزید گہرا

سعودی عرب نے یورپی ریفائنریوں کو تیل کی ترسیل منسوخ کردی، عالمی منڈی میں بحران مزید گہرا

اگر سعودی عرب کی برآمدات میں خلل طویل ہوا تو اس کے اثرات صرف خام تیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ اور دیگر خطوں میں پٹرول، ڈیزل اور  دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

لندن:  سعودی عرب نے مشرقی مغربی آئل پائپ لائن کی بندش کے بعد بعض یورپی ریفائنریوں کو خام تیل کی ترسیل منسوخ یا مؤخر کردی ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صنعتی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی سپلائی میں خلل کے بعد یورپی ریفائنریوں کو متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی کوشش کرنا پڑ رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولینڈ کی بڑی آئل کمپنی اورلین سعودی تیل کی متاثرہ سپلائی کا متبادل تلاش کرنے کے لیے شمالی سمندر اور دیگر علاقوں سے خام تیل کے کارگو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پانچ صنعتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی سعودی سپلائی میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے فوری اقدامات کر رہی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن ڈرون حملے کے بعد بند ہے۔ تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کو خلیج سے بحیرہ احمر تک خام تیل پہنچانے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری راستے پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق پائپ لائن کی بندش سے سعودی عرب کی برآمدی صلاحیت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پائپ لائن کی ترسیل جلد بحال نہ ہوئی تو سعودی عرب کے پاس بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے برآمدات کے لیے موجود تیل کے ذخائر چند دنوں میں ختم ہوسکتے ہیں، جس سے عالمی تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔

اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3 ڈالر اضافے کے بعد 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 104 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی تیل کی ترسیل کو پہلے ہی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت میں نمایاں کمی، بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے عالمی تیل سپلائی چین کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کی برآمدات میں خلل طویل ہوا تو اس کے اثرات صرف خام تیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ اور دیگر خطوں میں پٹرول، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی سپلائی میں مزید کمی عالمی منڈی میں پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین کرسکتی ہے، جبکہ توانائی کی بلند قیمتیں عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے اس کی پیداوار یا برآمدات میں کسی بھی بڑے خلل کا عالمی توانائی منڈی پر فوری اثر پڑتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یورپی ریفائنریوں کی جانب سے متبادل خام تیل کی تلاش اس بات کی علامت ہے کہ سپلائی کا بحران عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:11 + 5 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More