حیدرآباد ڈویژن ایچ آئی وی وائرس کا گڑھ بن گیا ، ایک سال میں 186 بچوں میں وائرس کی تصدیق
حیدرآباد: ملک میں بچوں کی صحت سے متعلق ایک تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حیدرآباد ڈویژن میں گزشتہ ایک سال کے دوران مزید 186 بچوں میں ایچ آئی وی (ہیومن امیونوڈیفیشینسی وائرس) کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ڈویژن میں متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 293 ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون 2025 سے 20 جون 2026 کے درمیان کیے گئے طبی معائنے اور تشخیصی ٹیسٹوں میں 186 نئے بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف والدین بلکہ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے لیے بھی باعثِ تشویش ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کی ایک بڑی وجہ غیر محفوظ طبی طریقۂ کار، آلودہ یا بار بار استعمال ہونے والے انجیکشن، مناسب اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی، اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خون کی اسکریننگ، انفیکشن کنٹرول اور نگرانی کے موجودہ نظام میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو وائرس کے مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔
ماہرین نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ سرکاری اور نجی اسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریوں میں طبی حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، خون کی منتقلی سے قبل مکمل اسکریننگ کی جائے، اور عوام میں ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ بچوں سمیت دیگر افراد کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں نے بھی حکومت اور محکمۂ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ بچوں کو معیاری علاج، ادویات اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
