Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

حنا طارق نے عورتوں کے ’فیمنسٹ‘ ہونے کو لعنت قرار دے دیا

  حنا طارق نے عورتوں کے ’فیمنسٹ‘ ہونے کو لعنت قرار دے دیا

نرم مزاج، حد سے زیادہ حساس یا ’پوکی‘ مرد پسند  نہیں ۔ اداکارہ

  

اداکارہ حنا طارق نے خواتین کے حقوق، فیمنزم اور مرد و عورت کے روایتی سماجی کرداروں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

حنا طارق، جنہوں نے ڈرامہ سیریلز نقاب، نہ تم جانو نہ ہم، نفرت اور حالیہ مقبول ڈرامہ رحمت میں اپنی اداکاری سے خاصی توجہ حاصل کی ہے، حال ہی میں ایک یوٹیوب شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے جدید رشتوں، ازدواجی توقعات اور معاشرتی کرداروں پر کھل کر گفتگو کی۔

اپنی گفتگو میں اداکارہ نے کہا کہ انہیں ایسے مرد پسند نہیں جو حد سے زیادہ نرم مزاج، حساس یا ان کے الفاظ میں “پوکی” ہوں۔ ان کے مطابق ایک مرد میں مضبوطی، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور خودمختاری ہونی چاہیے، کیونکہ یہی وہ خصوصیات ہیں جو انہیں “اصل مردانگی” کی علامت لگتی ہیں۔

حنا طارق نے اپنی پسند اور توقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا شریکِ حیات ذمہ دار ہو، زندگی کی منصوبہ بندی کرے، مالی معاملات جیسے کرایہ ادا کرے، اور ان کی زندگی میں توجہ اور محبت کا اظہار پھول دینے اور دیگر چھوٹے رومانوی اقدامات کے ذریعے کرے۔ ان کے مطابق وہ خود مالی طور پر خودمختار ہونے کے باوجود رشتے میں مرد کی جانب سے روایتی ذمہ داریوں کی تکمیل کو اہم سمجھتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسی خواتین کے رویے کو پسند نہیں کرتیں جو روایتی طور پر مردوں سے منسوب کردار خود ادا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق گاڑی میں پٹرول ڈلوانا، بھاری سامان اٹھانا یا ہر عملی ذمہ داری خود سنبھالنا عورت کے حصے میں نہیں آنا چاہیے، بلکہ یہ کام مرد کو کرنے چاہئیں۔

اداکارہ نے گفتگو کے دوران یہ مؤقف بھی اپنایا کہ عورت ایک نازک اور خوبصورت مخلوق ہے جسے زیادہ تر محبت، توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ غصے یا سخت رویے کی۔ اسی تناظر میں انہوں نے فیمنزم کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے “لعنت” قرار دیا، جس پر مزید بحث چھڑ گئی ہے۔

حنا طارق کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین ان کے خیالات کو روایتی خاندانی اقدار اور مشرقی ثقافت سے ہم آہنگ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر افراد کا کہنا ہے کہ ان کے خیالات جدید فیمنزم اور خواتین کے برابری کے حقوق کے تصور کے خلاف ہیں اور اس سے ایک متنازع بحث نے جنم لیا ہے۔

یوں یہ معاملہ اب صرف ایک اداکارہ کے انٹرویو تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک وسیع سماجی بحث کی شکل اختیار کر گیا ہے جس میں جدید اور روایتی نظریات آمنے سامنے آ رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More