Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

تونسہ میں ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا،وہ 2024کا ہے، وزیرصحت مصطفیٰ کمال

تونسہ میں ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا،وہ 2024کا ہے، وزیرصحت مصطفیٰ کمال

 پاکستان میں ایچ آئی وی کے 84000کیسز رجسٹرڈ ہیں،اس کی دوا صرف حکومت کے پاس سے ملتی ہے

 8لاکھ ڈالر کی مچھر دانیاں پاکستان سے چوری ہوئیں،کسی کو سزا نہیں ہوئی،، ہیلتھ کیئرسسٹم کوسنجیدہ نہیں لیا تو بہت پیچھے رہ جائیں گے

ہم نے تیسری عالمی جنگ ہونے سے روکی ہے، 100سال کی ڈپلومیسی میں بھی یہ کامیابی نہیں مل سکتی تھی،وفاقی وزیرمصطفی کمال کی پریس کانفرنس

اسلام آباد:  وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہاہے کہ تونسہ میں اس سال ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو کیس رپورٹ کیا جا رہا ہے وہ 2024کا ہے،  پاکستان میں ایچ آئی وی کے 84000کیسز رجسٹرڈ ہیں،اس کی دوا صرف حکومت کے پاس سے ملتی ہے، 8لاکھ ڈالر کی مچھر دانیاں پاکستان سے چوری ہوئیں،کسی کو سزا نہیں ہوئی،، ہیلتھ کیئرسسٹم کوسنجیدہ نہیں لیا تو بہت پیچھے رہ جائیں گے،ہم نے تیسری عالمی جنگ ہونے سے روکی ہے، 100سال کی ڈپلومیسی میں بھی یہ کامیابی نہیں مل سکتی تھی۔

قومی ادارہ برائے صحت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ اللہ تعالی نے ریاست چلانے والوں سے کام لے لیا ہے، ہمیں آج گرین پاسپورٹ پر کریڈٹ مل رہا ہے، 100سال کی ڈپلومیسی سے بھی یہ کامیابی نہیں مل سکتی تھی، ہم نے تیسری جنگ عظیم روکی ہے۔انہوں نے کہا کہ تونسہ میں اس سال ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو کیس رپورٹ کیا جا رہا ہے وہ 2024کا ہے جبکہ اسلام آباد میں ایچ آئی وی کا کوئی آؤٹ بریک نہیں ہوا، کل 618کیسز ہیں، جن میں سے اسلام آباد سے 210کیسز ہیں، اسلام آباد میں راولپنڈی، آزاد کشمیر، کے پی کے اور گلگت بلتستان سے لوگ آتے ہیں جن کی تعداد 408ہے، یچ آئی وی کے خطرات موجود ہیں۔ مصطفی کمال نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے گلوبل فنڈ امداد کرتا ہے، 2024سے 2026کیلیے فنڈ 65ملین ڈالر تھا، جس کی معیاد جون 2026میں ختم ہو جائے گی، 65ملین ڈالر میں سے حکومت کو 3.9ملین ڈالر کو دئیے گئے، 61.1ملین ڈالر کی ہم باز پرس نہیں کر سکتے کیونکہ یہ این جی اوز کے پاس ہے، باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ 2020تک پورے ملک میں 49اے آر ٹی سینٹرز تھے، ان میں 37000لوگوں کی اسکریننگ ہوئی جن میں سے 6910کیسز مثبت آئے، 2025میں اے آر ٹی سینٹرز کی تعداد 97ہو گئی، ان سینٹرز میں 374126ٹیسٹ ہوئے، 14182کیسز مثبت آئے،کیسز میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، پاکستان میں ایچ آئی وی کے 84000کیسز رجسٹرڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ61ہزار لوگوں کا علاج جاری ہے اور 24ہزار مریض لاپتاہیں، ایچ آئی وی کی دوا صرف حکومت کے پاس سے ملتی ہے، ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں، جو علاج کروا رہا ہو اس سے بیماری پھیلتی نہیں ہے، ایسے مریض کو زندگی بھر دوا لینا پڑتی ہے، اب ایسی دوا آ رہی ہے جس کی سال یا 6ماہ میں ایک ڈوز لینی ہوگی۔

مصطفی کمال کے مطابق 8لاکھ ڈالر کی مچھر دانیاں پاکستان سے چوری ہوئیں،کسی کو سزا نہیں ہوئی، ہم اپنی کوتاہیوں کو چھپائیں گے نہیں، ہیلتھ کیئرسسٹم کوسنجیدہ نہیں لیا تو بہت پیچھے رہ جائیں گے، میرے پاس قابل ٹیم ہے، ہم نے بڑی ریفارمز کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں پہلے 3سی سی کی سرنج پر پابندی عائد کی گئی، اب 10سی سی کی سرنج پر بھی پابندی لگانے جا رہے ہیں، 10سی سی پر پابندی کی ڈریپ سے منظوری ہوگئی ہے، اب کابینہ پاس کرے گی، ایچ آئی وی کے 98اسکریننگ سینٹرز ہیں، اسے 106کرنے جا رہے ہیں۔

ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے گلوبل فنڈ امداد کرتا ہے،مصطفی کمال

 2024 سے 2026  کیلئے فنڈ 65ملین ڈالرز تھا،جون 2026 میں اس کی میعاد ختم ہو جائے گی، وزیرصحت

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا ہے کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے گلوبل فنڈ امداد کرتا ہے۔مصطفی کمال نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 2024 سے 2026  کیلئے فنڈ 65ملین ڈالرز تھا،جون 2026 میں اس کی میعاد ختم ہو جائے گی، 65ملین ڈالرز میں سے حکومت کو 3.9ملین ڈالرز دیے گئے جب کہ باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو دی گئی ہے، 93فیصد فنڈ ہمارے پاس نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ 61.1ملین ڈالرز کی ہم باز پرس نہیں کر سکتے کیونکہ یہ این جی اوز کے پاس ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More