ترجمان پاک فوج نے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے سامنے تین آپشنز رکھ دئیے
جو خارجیوں کی سہولت کاری کرے گا وہ اپنے انجام کو پہنچے گا، ڈی جی آئی ایس پی
پشاور: پاک فوج کے ترجمان نے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے سامنے تین آپشنز رکھتے ہوئے واضع کیا ہے کہ جو خارجیوں کی سہولے کاری کرے گا وہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سہولت کاروں کے پاس صرف تین چوائس ہیں۔
-
سہولت کاری کرنے والا خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کردے
-
دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کے ساتھ مل کراس ناسور کو اپنے انجام تک پہنچائے
-
اگریہ دونوں کام نہیں کرنے تو خارجیوں کے سہولت کار ہوتے ہوئے ریاست کی طرف سے ایکشن کے لیے تیار رہیں
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی، لہٰذا خارجیوں کے ناسور کو انجام تک پہنچانے کے لیے عوام ساتھ دے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بنیادی طور پر پولیس کا کرنے والا کام بھی فوج کو کرنا پڑا رہا ہے، جس کی وجہ یہ ہے سی ٹی ڈی کی تعداد ہی 3200 رکھی ہوئی ہے تو پھر نتائج کیسے برآمد ہوں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا سب سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، ہم نے اپنی سیاست کو دہشت گردی پر مقدم کر دیا ہے اس لیے گزشتہ کئی سال سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی ایسے ختم ہوگی کہ ہم دہشتگرد اور اس کے سہولتکار کو ایک برابر جانیں، دہشتگردی ایسے ختم ہوگی کہ ہم دہشتگرد اور اس کے سہولتکار کو ایک برابر جانیں، جو دہشتگردوں کی سہولتکاری کر رہا ہے اور اس نے اسلحہ اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے تو اس میں اور دہشتگرد میں کیا فرق ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جو دہشتگردوں کی سہولتکاری کر رہا ہے اس کے پاس تین چوائس ہیں، پہلی یہ کہ وہ دہشتگرد کو خود ریاست کے حوالے کرے، اگر وہ یہ نہیں کرنا چاہتا یا نہیں کرسکتا تو ریاست کے ساتھ ملے اور مل کر اس ناسور کو ختم کرے کیونکہ اس کی بھی زندگی اس (دہشتگرد) نے اجیرن کی ہوئی ہے، اور اگر وہ یہ بھی نہیں کرنا چاہتا تو پھر وہ ایک سہولتکار ہے تو یہاں کولیٹرل ڈیمیج کا سوال کہاں سے آگیا، یہاں کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں ہے بلکہ یہ دہشتگرد اور اس کے سہولتکار ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی حکومت کبھی یہ کہتی ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہوجائے اور کبھی کہتی ہے کہ کابل کے آگے جھکنے سے مسئلہ حل ہوجائے گا، تو یہ ان کے بیانیے کا بڑا چھوٹا سا حصہ ہے، جو دہشتگردوں کا سہولتکار مارا گیا اس سہولتکار کے لواحقین کو پیسے دے کر اس کا رتبہ بڑھانا حکومت کیلئے بہت آسان ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ گورننس اور کرپشن پر بات کیوں نہیں کرتے، کیونکہ ہر لمحہ ان کے بیانیے کی بنیاد صرف سیکیورٹی مسائل پر ہے، باقی صوبے دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے این ایف سی کا ایک فیصد دے رہے ہیں، یہاں (خیبرپختونخوا) سے نہیں دیا جارہا وہ کہاں جا رہا ہے، ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں ہورہا، عوام کے لیے کام ہونا چاہیے تھا، کیوں نہیں ہوا، یہاں 40 ارب روپے کی کرپشن ایک پسماندہ ضلع میں درمیانے درجے کے ٹھیکیدار کے پاس سے نکل آئی، اس پر أپ نے سوال نہیں اٹھانا تاکہ دہشتگردی کے اوپر بیانیہ اس کنفیوژن میں رکھا جائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپ کو کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر دوسری طرف سے ہماری فوج کو انگیج کرکے دہشتگردوں اور اسمگلروں کو سرحد پار کرایا جاتا ہے، جھوٹ اور کنفیوڑن پر مبنی بیانیہ بنانا اس میں مہارت حاصل ہوچکی ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو دیانتداری کے ساتھ سچ بولنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس منفی سیاست کا، اس گمراہ بیانیے کا خمیازہ دہائیوں سے خیبرپختونخوا بھگت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چنانچہ ہم سب کو اس منفی پروپیگنڈے کے خلاف یک زبان ہوکر کھڑے ہونا ہوگا، اور جھوٹ اور غلاظت سے بھری ہوئی سیاست سے اپنے آپ کو دور کرنا پڑے گا اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے اور ہم یہی کریں گے۔
