ایران کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ
تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بیک وقت میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے بھی ایران پر مسلسل نویں رات فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین کے السخیر ایئر بیس پر امریکی یونٹس کی جانب سے استعمال ہونے والے ڈرونز کی مرمت اور دیکھ بھال کے ہینگرز کو میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین کی سلمان پورٹ پر امریکی ٹاسک فورس 59 (TF59) سے متعلق تنصیبات اور ہینگرز بھی حملوں کی زد میں آئے، جہاں موجود بحری اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کویت کے کیمپ عریفجان میں امریکی خصوصی بحری کمانڈو فورسز کی تعیناتی، معاونت اور لاجسٹک سہولیات کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن کے مکمل طور پر تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
آئی آر جی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی مسترد کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس محدود تعداد میں میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ٹرمپ کا بیان "نادانی اور حقائق سے لاعلمی” کی عکاسی کرتا ہے، اور ایران کے پاس طویل مدت تک جنگ جاری رکھنے کے لیے وافر دفاعی صلاحیت موجود ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے مسلسل نویں رات بھی ایران میں میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں تبریز، چاہ بہار، سیرک، ہرمزگان، بوشہر اور کونارک کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کر دیا، جبکہ اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فضائیہ کے سی-17 اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ اور پی-8 کمانڈ اینڈ کنٹرول طیاروں کو بھی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق شام کے علاقے التنف میں واقع امریکی کمانڈ سینٹر پر بھی حملہ کیا گیا۔
ادھر برطانوی میری ٹائم حکام نے عمان کے شمال مغرب میں ایک تجارتی جہاز میں آگ لگنے کے واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم فوری طور پر اس واقعے کی وجہ یا ممکنہ تعلق کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی سینٹکام نے عراق میں ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 18 جولائی کو ایرانی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ پینٹاگون نے جمعے کو ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے دو امریکی فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کی، جن میں 25 سالہ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان اور 19 سالہ ازابیلا گونزالیز شامل ہیں، جو داعش کے خلاف مشن پر تعینات تھے۔
تاہم ایران کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں اور نقصانات سے متعلق دعوؤں پر امریکی حکام کی طرف سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں اور نقصانات کے متضاد دعوے مسلسل کر رہے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
