Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

امریکی سینیٹ میںایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اورفوجی انخلا کی قرارداد منظور

امریکی سینیٹ میں ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اورفوجی انخلا کی قرارداد منظور 

قرارداد  47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے کامیاب ہوئی

امریکی سینیٹ نے ایران سے متعلق پالیسی پر صدر Donald Trump کی انتظامیہ کو ایک اہم سیاسی دھچکا دیتے ہوئے ایسی قرارداد منظور کرلی ہے جس کے تحت ایران کے گرد قائم امریکی فوجی دباؤ اور کارروائیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی اقدامات اور خطے میں موجود امریکی فوجی دستوں کی سرگرمیوں کو کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری نہ رکھا جائے۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے غیرمعمولی سمجھی جارہی ہے کہ ایران تنازع شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ امریکی سینیٹ نے ایسا قدم اٹھایا ہے جو مستقبل میں ایران پر کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کو براہِ راست کانگریس کی اجازت سے مشروط کرسکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس قرارداد کا مقصد امریکی صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنا اور کانگریس کے آئینی کردار کو مضبوط بنانا ہے۔

قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ آئے، جس سے واضح ہوا کہ سینیٹ میں اس معاملے پر شدید سیاسی تقسیم موجود ہے۔ خاص طور پر اس ووٹنگ میں چار ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعت کی پالیسی سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس نے اس قرارداد کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان سینیٹرز میں Susan Collins، Lisa Murkowski، Rand Paul اور Bill Cassidy شامل ہیں۔

قرارداد کے مطابق اگر امریکی حکومت ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو اسے کانگریس سے باضابطہ منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ اس اقدام کو امریکی آئین کے اس اصول سے جوڑا جارہا ہے جس کے تحت جنگ کا اختیار بنیادی طور پر کانگریس کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ صرف صدر کے پاس۔

اب یہ معاملہ سینیٹ میں مزید بحث اور حتمی ووٹنگ کے مراحل سے گزرے گا، جہاں ریپبلکن قیادت کی جانب سے قرارداد کو روکنے یا اس میں تبدیلی لانے کی کوشش متوقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قرارداد کی منظوری صدر کے اختیارات کو فوری طور پر ختم نہیں کرتی، لیکن یہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک واضح سیاسی پیغام ضرور ہے کہ ایران کے معاملے پر کانگریس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ ڈیموکریٹ سینیٹر John Fetterman اپنی جماعت کے واحد رکن تھے جنہوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی کی حمایت نے سیاسی حلقوں میں حیرت پیدا کردی کیونکہ چند روز قبل ہی انہیں اپنی جماعت کے اندر سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور صدر ٹرمپ نے ان کے مخالف امیدوار کی حمایت کی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ قرارداد نہ صرف امریکی داخلی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی اور ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More