Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

امریکا کا ایران پر دوسری بار فضائی حملہ، ایران کا جوابی وار، امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکا کا ایران پر دوسری بار فضائی حملہ، ایران کا  جوابی وار، امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو گئی جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کے دعوے کیے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر تیزی سے بڑھ گئی ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو گئی جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کے دعوے کیے۔

رپورٹس کے مطابق United States نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کے جنوبی شہر بندر عباس کے قریب ایک فوجی مقام پر کیے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ Strait of Hormuz میں امریکی افواج اور بحری ٹریفک کو خطرات لاحق تھے، جنہیں روکنا ضروری سمجھا گیا۔

دوسری جانب Iran کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فوجی حکام نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے زیادہ شدید ردعمل دیا جائے گا۔

خطے میں کشیدگی صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی۔ Kuwait کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے “دشمن” کے میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔ تاہم کویتی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملے کس جانب سے کیے گئے تھے۔ اس صورتحال کے بعد ملک میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

اسی دوران Israel کی فوج نے جنوبی Lebanon میں شہری آبادی کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق دریائے زہرانی کے جنوب میں واقع تمام علاقے جنگی زون میں تبدیل ہو چکے ہیں، اور وہاں کے شہریوں کو شمالی علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بین الاقوامی امدادی اداروں نے جنوبی لبنان کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک اور تباہ کن قرار دیا ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے، جس سے ہزاروں شہری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور سفارتی معاہدے سے متعلق بیانات میں واضح تضاد دیکھا جا رہا ہے۔ Donald Trump نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی۔ اس کے برعکس ایرانی حکام مذاکرات کے حوالے سے محتاط اور غیر واضح مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، خصوصاً تیل کی ترسیل اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More