ٹرمپ مشکل صورتحال میں پھنس چکے، ایران کے ساتھ جنگ معاشی محاذ پر منتقل
امریکی صدر غیر ارادی طور پر آبنائے ہرمز بند کر کے ایران کو ایک بہت طاقتور ہتھیار دے دیا ہے۔ سینئر فیلو ڈگ بینڈو
دوحہ: امریکی تھنک ٹینک کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو ڈگ بینڈو نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف
سیاسی یا عسکری نوعیت کی نہیں رہی بلکہ یہ ایک بڑے معاشی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کی جانب سے جاری دباؤ اور ناکہ بندی کی صورتحال اس تنازعے کا سب سے اہم پہلو بن گئی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈگ بینڈو نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل صورتحال میں گھر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں غیر ارادی طور پر آبنائے ہرمز کی بندش جیسی صورتحال پیدا ہوئی، جس نے ایران کو ایک مضبوط سفارتی اور معاشی ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر فوری طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ ڈگ بینڈو کے مطابق امریکہ اس راستے کو دوبارہ مکمل طور پر محفوظ اور کھلا رکھنے کیلئے اپنی بحری قوت استعمال کر سکتا ہے، تاہم ایسا کرنے کی صورت میں امریکی بحری جہازوں اور فوجی اہلکاروں کو براہِ راست خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس سے واشنگٹن محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
ڈگ بینڈو نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کیلئے ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر قابل قبول معاہدہ کرنے کے علاوہ زیادہ آپشنز باقی نہیں رہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ ایران پر مزید دباؤ بڑھاتا ہے تو خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی بے یقینی پیدا ہو گی۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ٹرمپ آئندہ وسط مدتی انتخابات پر اس تنازعے کے ممکنہ اثرات سے بے فکر ہیں۔ ڈگ بینڈو کے مطابق سیاسی طور پر یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انتخابات اہم نہیں، لیکن حقیقت میں ہر امریکی صدر انتخابی نتائج کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کسی بڑی سیاسی ناکامی یا عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے۔
ڈگ بینڈو نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ عالمی برادری، خطے کے ممالک اور امریکہ سمیت ہر فریق اس کشیدہ صورتحال کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ بھی ان تمام خدشات اور تنقید کو سن رہے ہیں اور وہ اس معاملے کے سیاسی، معاشی اور عسکری اثرات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
