عمان برتاؤ ٹھیک کرے ، ورنہ تباہ کر دیں گے، ٹرمپ کی اپنے اتحادی عمان کو دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی سخت بیان دیتے ہوئے امریکہ کی اتحادی ریاست عمان کو بھی تنبیہ کر دی ہے۔
یہ بات انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی کابینہ اجلاس کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہی۔ سوال میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ اگر عمان ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول یا انتظام میں کوئی کردار ادا کرتا ہے تو کیا امریکہ اسے قبول کرے گا؟
اس پر ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں نہیں لے سکتا، کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی اور عالمی تجارت کے لیے اہم آبی راستہ ہے۔ ان کے مطابق یہ خطہ کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ عالمی سطح پر استعمال ہونے والا راستہ ہے، اور امریکہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمان اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ دیگر ممالک کی طرح ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے، ورنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو خطے میں امریکی پالیسی کی سختی اور دباؤ کے ایک اور اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران (Iran) کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں کسی بھی سیاسی دباؤ یا خاص طور پر وسط مدتی انتخابات کے اثرات کی کوئی پرواہ نہیں۔ ان کے مطابق ان کی ترجیح قومی سلامتی اور امریکی مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ انتخابی سیاست۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، خلیجی ممالک اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور سفارتی رابطوں کے حوالے سے صورتحال مسلسل حساس بنی ہوئی ہے۔
