Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

افغانستان: بدخشاں میں طالبان رجیم کو بڑا دھچکا، مخالف فورسز نے ضلعی ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کرکے اسلحہ لوٹ لیا

افغانستان: بدخشاں میں طالبان رجیم کو بڑا دھچکا، مخالف فورسز نے ضلعی ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کرکے اسلحہ لوٹ لیا

کابل: افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی ہے، جہاں طالبان کے امن و امان سے متعلق دعووں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق ضلع یفتل کے ضلعی ہیڈ کوارٹر پر طالبان مخالف مسلح گروہ کے حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک علاقے کا کنٹرول حملہ آوروں کے پاس رہا، جبکہ طالبان اہلکاروں کو پسپا ہونا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق حملہ اچانک کیا گیا، جس کے دوران طالبان اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ حملہ آوروں نے ضلعی ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں اپنا پرچم بھی لہرایا، جسے طالبان کے لیے ایک بڑا علامتی اور عسکری دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان مخالف فورسز ضلعی ہیڈ کوارٹر سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، فوجی سازوسامان اور دیگر دفاعی آلات اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب رہیں۔ تاہم اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں یا زخمیوں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ طالبان حکام نے بھی واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ بدخشاں گزشتہ کئی ماہ سے طالبان مخالف سرگرمیوں کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں دو نمایاں مزاحمتی تنظیمیں، فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF)، مختلف اضلاع میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ ان گروپوں کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سیاسی اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ضلع یفتل پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان کو ملک کے مختلف حصوں میں مسلسل سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق اگر طالبان اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹرز اور اہم سرکاری تنصیبات کا مؤثر تحفظ نہیں کر پا رہے تو یہ ان کے امن و استحکام کے دعووں پر سوالیہ نشان ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ بدخشاں میں مزاحمت کی نئی لہر طالبان حکومت کے خلاف مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور عوامی ناراضی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں جاری کشیدگی نہ صرف طالبان مخالف گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا اظہار ہے بلکہ طالبان کے اندر موجود نسلی، سیاسی اور انتظامی اختلافات کو بھی نمایاں کرتی ہے، جو مستقبل میں افغانستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر مزید اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More