مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات، امریکا۔بھارت تعلقات میں سرد مہری بڑھنے لگی: بھارتی جریدہ
تجارت، سفارت کاری اور سلامتی سمیت متعدد معاملات پر اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ رپورٹ
بھارت میں ہندوتوا نظریے پر قائم وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو ایک بار پھر اپنی خارجہ پالیسی پر تنقید کا سامنا ہے۔ بھارتی جریدے اوپن میگزین نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کی نئی دہلی سے متعلق حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات پہلے جیسی گرم جوشی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اب بھارت کو صرف ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ بعض شعبوں میں ممکنہ معاشی حریف کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد تعلقات میں بہتری کی جو توقعات وابستہ کی جا رہی تھیں، وہ پوری نہ ہو سکیں، بلکہ تجارت، سفارت کاری اور سلامتی سمیت متعدد معاملات پر اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
اوپن میگزین کے مطابق امریکی پالیسی سازوں کی نظر میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسلام آباد نے ایران کے ساتھ امریکی رابطوں میں بھی اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے امریکی "ڈیپ اسٹیٹ” پر بھارت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے منفی بیانیہ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ امریکا نے 2024 میں سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر کے خلاف سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے مبینہ قتل کی سازش کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی ایک اہم مثال قرار دیا گیا۔
اسی طرح بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف امریکا میں فراڈ کے الزامات کو بھی نئی دہلی میں مودی حکومت کے لیے سفارتی اور سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا گیا۔
بین الاقوامی امور کے ماہر کانتی باجپائی کے مطابق بھارت اور امریکا کے تعلقات اب خصوصی شراکت داری کے بجائے مفادات پر مبنی، محتاط اور نسبتاً سرد نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے بقول مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسی، متضاد خارجہ حکمت عملی اور بڑھتے تجارتی تنازعات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو غیر معمولی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔
