اسرائیل مذاکرات کو ناکام بنانے کیلئے کوشاں ہے، کسی حتمی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان نہیں، ایران
تہران کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔ اسماعیل بقائی
ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ نے تازہ پیش رفت سے متعلق اہم تفصیلات جاری کی ہیں، جن کے مطابق اگرچہ کئی معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ابھی فوری طور پر ممکن نہیں لگتا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ مذاکرات کے مختلف اور اہم موضوعات پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اس پیش رفت کا یہ مطلب نہیں کہ فریقین جلد کسی جامع یا حتمی معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بات چیت ایک پیچیدہ مرحلے میں ہے اور اس میں مزید وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مذاکرات کا بنیادی فوکس فوری طور پر جنگ یا کشیدگی کے خاتمے پر ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی اور تکنیکی معاملات اس مرحلے پر مرکزی موضوع نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کو معمول پر لانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن حکمت عملی اختیار کر رہا ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو مناسب اور متوازن جواب بھی دیا جائے گا۔ ان کے مطابق تہران کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں جو پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، اس میں پاکستان سمیت بعض دیگر ممالک کی ثالثی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ معاہدے یا مجوزہ فریم ورک میں لبنان میں جاری کشیدگی اور وہاں جنگ کے خاتمے سے متعلق نکات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حساس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ یہ اہم سمندری گزرگاہ ساحلی ممالک کے انتظام کے دائرے میں آنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس راستے پر کوئی ٹول ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم جہاز رانی اور دیگر سہولیات کے بدلے میں فیس لینا ایک معمول کی بات ہے۔ ان کے مطابق ایران خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں سکیورٹی اور تجارتی سرگرمیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اسرائیل ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو ناکام بنایا جائے، اس لیے ایران کو خدشہ ہے کہ اس کے اقدامات مذاکراتی عمل پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
آخر میں ایرانی ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت پاکستان کے کسی سرکاری دورے یا پاکستانی حکام کی تہران آمد کا کوئی باضابطہ شیڈول موجود نہیں ہے۔!
