حوثیوں کا بحرِ احمر میں سعودی تیل بردار ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ، عالمی بحری تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی
ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی عرب کے دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ واقعے کے بعد باب المندب، عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثی ملیشیا نے جمعرات کو بحرِ احمر میں سعودی عرب کے دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی بحری تجارت پر نئے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ سمندری ناکہ بندی کے نفاذ کا حصہ ہے۔
حوثی باغیوں کے مطابق جن دو ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ان کے نام "اینسیلیا” اور "لیلیٰ” ہیں، تاہم دوسرے ٹینکر لیلیٰ پر حملے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی ملکیت کے ٹینکر اینسیلیا کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بحرِ احمر میں سفر کے دوران ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے، جہاز اور عملے کو محفوظ بنانے کے ساتھ سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے بھی تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے۔
رپورٹ کے مطابق اینسیلیا نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سعودی بندرگاہ جیزان کے قریب میزائل حملے کی اطلاع دیتے ہوئے امداد کی اپیل بھی کی تھی۔
برطانیہ کے بحری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او (UKMTO) نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی پرچم بردار ٹینکر کو سعودی عرب کے ساحلی علاقے الشقیق کے جنوب مغرب میں ایک نامعلوم شے سے نشانہ بنایا گیا۔
حوثی باغی باب المندب کے قریب ساحلی علاقوں پر قابض ہیں۔ باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تیل اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس آبی گزرگاہ میں بڑھتی کشیدگی عالمی سپلائی چین، بحری تجارت اور خام تیل کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
حوثیوں نے رواں ہفتے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف سمندری محاصرے کا اعلان کیا تھا، جسے تجزیہ کار خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ اسی صورتحال کے باعث بدھ کے روز کم از کم پانچ آئل ٹینکروں نے خطرات کے پیش نظر اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جبکہ اس سے ایک روز قبل چین اور بھارت جانے والے سعودی خام تیل سے لدے تین جہاز بھی واپس مڑ گئے تھے۔
ادھر پاکستان نے بھی حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی پاکستانی جہاز کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع اور طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بحرِ احمر اور باب المندب سے گزرنے والی عالمی بحری تجارت کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔
