آبنائے ہرمز کھولنے پر امریکا اور ایران میں 48 گھنٹوں میں معاہدے کا امکان ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعوی
مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا، اسکاٹ بیسنٹ
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا دعویٰ، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل؛ معاہدے سے بحری آمدورفت بحال اور عالمی سپلائی چین میں استحکام آنے کی امید
واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف بحری تجارت بحال ہوگی بلکہ عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں مزید کمی بھی متوقع ہے۔
امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کے پروگرام "اسکواک باکس” میں گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اگر بات چیت کامیاب رہی تو آج یا کل، یعنی منگل یا بدھ تک معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔
ایک سوال کے جواب میں اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ٹول وصول کرنے کی اجازت دینے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، بلکہ معاہدے کی بنیاد آزادانہ بحری نقل و حرکت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم متعدد بحری جہاز اب بھی وہاں سے گزر رہے ہیں جبکہ کئی جہازوں نے دوبارہ سفر شروع کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس وقت سیکڑوں، بلکہ ممکنہ طور پر ایک ہزار کے قریب بحری جہاز آبنائے ہرمز میں روانگی کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعطل صرف خام تیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات اور مختلف صنعتی گیسوں کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ بحری راستہ کھلنے سے ان شعبوں کو بھی نمایاں ریلیف ملے گا۔
ان کے بیان کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 3 فیصد کمی کے بعد 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ جیسے ہی خلیج فارس میں پھنسے بحری جہاز اپنی منزل کی جانب روانہ ہوں گے، توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے، جس کا فائدہ دنیا بھر کی معیشت کو پہنچے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی حملے کا منصوبہ مؤخر کیا تاکہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کا موقع دیا جا سکے۔ تاہم ماضی میں بھی ٹرمپ متعدد بار معاہدہ قریب ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں، لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران نے 17 جون کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے تھے، جس کے بعد مختصر عرصے کے لیے بحری آمدورفت میں بہتری آئی، تاہم جہازوں کے مجوزہ بحری راستے پر اختلافات کے باعث یہ پیش رفت برقرار نہ رہ سکی۔
بعد ازاں ایران نے ان آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جو امریکی فوجی تحفظ میں عمان کے ساحلی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کر رہے تھے، جبکہ تہران کا مؤقف تھا کہ تمام جہازوں کو ایرانی علاقائی پانیوں سے گزرنا چاہیے۔
اس صورتحال کے جواب میں امریکا نے ایران کے خلاف ایک درجن سے زائد فضائی حملے کیے اور بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اب تازہ مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کی منڈی کو مستحکم بنانے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
