نوواک جوکووچ نے ومبلڈن کی تاریخ کا طویل ترین کوارٹر فائنل جیت لیا
جوکووچ کا سیمی فائنل میں جینک سنر سے مقابلہ سے مقابلہ ہو گا
نوواک جوکووچ نے ومبلڈن کی تاریخ کا طویل ترین کوارٹر فائنل جیت لیا، سیمی فائنل میں جینک سنر سے مقابلہ سے مقابلہ ہو گا
لندن: سربیا کے لیجنڈری ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ نے ومبلڈن چیمپئن شپ کے ایک یادگار اور سنسنی خیز کوارٹر فائنل میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ پانچ گھنٹے اور 15 منٹ تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ ومبلڈن کی تاریخ کے طویل ترین کوارٹر فائنلز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے شائقین کو آخر تک اپنی نشستوں سے بندھے رکھا۔
پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا تاریخی مقابلہ
نوواک جوکووچ کا مقابلہ کینیڈا کے تھرڈ سیڈ فیلکس اوجر-الیاسیم سے تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پورے میچ کے دوران غیرمعمولی کھیل، بھرپور عزم اور ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ طویل اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد جوکووچ نے فیصلہ کن لمحات میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح اپنے نام کی اور سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔
ریکارڈ آٹھویں ومبلڈن ٹائٹل کی دوڑ برقرار
اس کامیابی کے ساتھ ہی نوواک جوکووچ ومبلڈن کا ریکارڈ کے برابر آٹھواں سنگلز ٹائٹل جیتنے کی دوڑ میں برقرار ہیں۔ اگر وہ رواں ٹورنامنٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا مجموعی طور پر 25واں گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل ہوگا، جو انہیں ٹینس کی تاریخ کے کامیاب ترین گرینڈ سلیم کھلاڑیوں میں مزید نمایاں مقام دلائے گا۔
میچ کے بعد نوواک جوکووچ کا ردعمل
فتح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوواک جوکووچ نے کہا کہ پانچ گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے اس تاریخی مقابلے کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ میچ ومبلڈن میں ان کے کیریئر کے بہترین مقابلوں میں سے ایک تھا، جہاں دونوں کھلاڑیوں نے انتہائی اعلیٰ معیار کا ٹینس پیش کیا۔
جوکووچ کے مطابق کامیابی کی بنیادی وجہ فیصلہ کن مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا تھا، جبکہ کورٹ میں موجود ہزاروں شائقین کی بھرپور حمایت اور جوش و خروش نے بھی میچ کو مزید یادگار بنا دیا۔
سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ٹکر
سیمی فائنل میں نوواک جوکووچ کا مقابلہ دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ہوگا۔ دونوں عالمی معیار کے کھلاڑیوں کے درمیان یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے اہم اور دلچسپ میچز میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں فاتح کھلاڑی فائنل میں جگہ بنانے کی کوشش کرے گا۔
ٹینس شائقین کی نظریں اب اس بڑے مقابلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ جوکووچ ایک اور تاریخی اعزاز حاصل کرنے کے قریب ہیں، جبکہ جینک سنر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔
لندن: سربیا کے لیجنڈری ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ نے ومبلڈن چیمپئن شپ کے ایک یادگار اور سنسنی خیز کوارٹر فائنل میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ پانچ گھنٹے اور 15 منٹ تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ ومبلڈن کی تاریخ کے طویل ترین کوارٹر فائنلز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے شائقین کو آخر تک اپنی نشستوں سے بندھے رکھا۔
پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا تاریخی مقابلہ
نوواک جوکووچ کا مقابلہ کینیڈا کے تھرڈ سیڈ فیلکس اوجر-الیاسیم سے تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پورے میچ کے دوران غیرمعمولی کھیل، بھرپور عزم اور ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ طویل اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد جوکووچ نے فیصلہ کن لمحات میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح اپنے نام کی اور سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔
ریکارڈ آٹھویں ومبلڈن ٹائٹل کی دوڑ برقرار
اس کامیابی کے ساتھ ہی نوواک جوکووچ ومبلڈن کا ریکارڈ کے برابر آٹھواں سنگلز ٹائٹل جیتنے کی دوڑ میں برقرار ہیں۔ اگر وہ رواں ٹورنامنٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا مجموعی طور پر 25واں گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل ہوگا، جو انہیں ٹینس کی تاریخ کے کامیاب ترین گرینڈ سلیم کھلاڑیوں میں مزید نمایاں مقام دلائے گا۔
میچ کے بعد نوواک جوکووچ کا ردعمل
فتح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوواک جوکووچ نے کہا کہ پانچ گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے اس تاریخی مقابلے کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ میچ ومبلڈن میں ان کے کیریئر کے بہترین مقابلوں میں سے ایک تھا، جہاں دونوں کھلاڑیوں نے انتہائی اعلیٰ معیار کا ٹینس پیش کیا۔
جوکووچ کے مطابق کامیابی کی بنیادی وجہ فیصلہ کن مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا تھا، جبکہ کورٹ میں موجود ہزاروں شائقین کی بھرپور حمایت اور جوش و خروش نے بھی میچ کو مزید یادگار بنا دیا۔
سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ٹکر
سیمی فائنل میں نوواک جوکووچ کا مقابلہ دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ہوگا۔ دونوں عالمی معیار کے کھلاڑیوں کے درمیان یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے اہم اور دلچسپ میچز میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں فاتح کھلاڑی فائنل میں جگہ بنانے کی کوشش کرے گا۔
ٹینس شائقین کی نظریں اب اس بڑے مقابلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ جوکووچ ایک اور تاریخی اعزاز حاصل کرنے کے قریب ہیں، جبکہ جینک سنر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔
لندن: سربیا کے لیجنڈری ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ نے ومبلڈن چیمپئن شپ کے ایک یادگار اور سنسنی خیز کوارٹر فائنل میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ پانچ گھنٹے اور 15 منٹ تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ ومبلڈن کی تاریخ کے طویل ترین کوارٹر فائنلز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے شائقین کو آخر تک اپنی نشستوں سے بندھے رکھا۔
پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا تاریخی مقابلہ
نوواک جوکووچ کا مقابلہ کینیڈا کے تھرڈ سیڈ فیلکس اوجر-الیاسیم سے تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پورے میچ کے دوران غیرمعمولی کھیل، بھرپور عزم اور ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ طویل اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد جوکووچ نے فیصلہ کن لمحات میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح اپنے نام کی اور سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔
ریکارڈ آٹھویں ومبلڈن ٹائٹل کی دوڑ برقرار
اس کامیابی کے ساتھ ہی نوواک جوکووچ ومبلڈن کا ریکارڈ کے برابر آٹھواں سنگلز ٹائٹل جیتنے کی دوڑ میں برقرار ہیں۔ اگر وہ رواں ٹورنامنٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا مجموعی طور پر 25واں گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل ہوگا، جو انہیں ٹینس کی تاریخ کے کامیاب ترین گرینڈ سلیم کھلاڑیوں میں مزید نمایاں مقام دلائے گا۔
میچ کے بعد نوواک جوکووچ کا ردعمل
فتح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوواک جوکووچ نے کہا کہ پانچ گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے اس تاریخی مقابلے کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ میچ ومبلڈن میں ان کے کیریئر کے بہترین مقابلوں میں سے ایک تھا، جہاں دونوں کھلاڑیوں نے انتہائی اعلیٰ معیار کا ٹینس پیش کیا۔
جوکووچ کے مطابق کامیابی کی بنیادی وجہ فیصلہ کن مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا تھا، جبکہ کورٹ میں موجود ہزاروں شائقین کی بھرپور حمایت اور جوش و خروش نے بھی میچ کو مزید یادگار بنا دیا۔
سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ٹکر
سیمی فائنل میں نوواک جوکووچ کا مقابلہ دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ہوگا۔ دونوں عالمی معیار کے کھلاڑیوں کے درمیان یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے اہم اور دلچسپ میچز میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں فاتح کھلاڑی فائنل میں جگہ بنانے کی کوشش کرے گا۔
ٹینس شائقین کی نظریں اب اس بڑے مقابلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ جوکووچ ایک اور تاریخی اعزاز حاصل کرنے کے قریب ہیں، جبکہ جینک سنر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔
