یورپ تاریخ کی قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں آ گیا، 1300 اموات ریکارڈ
20جون سے شروع ہونے والی یہ گرمی کی لہر یورپ کی تاریخ کی بدترین ہیٹ ویو ہے: موسمیاتی ماہرین
یورپ اس وقت تاریخ کی بدترین اور غیر معمولی گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس کے مطابق 21 جون سے اب تک یورپ میں شدید گرمی سے منسلک 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کو اکثر "خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ یورپ کے بیشتر گھروں، دفاتر اور اسکولوں کی تعمیر ایسے انتہائی درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے لیے نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں افراد شدید گرمی کی زد میں ہیں، سیکڑوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، متعدد اسکول بند ہیں اور بجلی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے یورپی حکومتوں پر زور دیا کہ عوام کے تحفظ کے لیے ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث وہ گرمی کی لہریں جو پہلے کئی دہائیوں میں ایک بار آتی تھیں، اب تقریباً ہر سال دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
ادھر فرانس کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ بدھ سے ملک میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں زیادہ تر افراد کی عمر 65 سال یا اس سے زائد تھی۔ گھروں میں ہونے والی اموات میں بھی تقریباً 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق 20 جون سے شروع ہونے والی یہ ہیٹ ویو یورپ کی تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں شامل ہے، جس نے بجلی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ، صحت کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر ایسی شدید گرمی کا رونما ہونا تقریباً ناممکن تھا، جبکہ رات کے وقت غیر معمولی گرمی پڑنے کے امکانات گزشتہ بیس برسوں کے مقابلے میں سو گنا تک بڑھ چکے ہیں۔
آسٹریا، جمہوریہ چیک، جرمنی اور پولینڈ میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، جبکہ فرانس کے مختلف علاقوں میں طوفانوں نے بجلی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید متاثر کیا۔ جرمنی میں کئی ریلوے اور ٹرام سروسز معطل یا محدود کر دی گئیں، جبکہ شہری شدید گرمی کے باعث دن بھر گھروں میں رہنے پر مجبور رہے۔
شدید گرمی نے یورپ کے دریاؤں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہنگری میں دریائے ڈینیوب کے پانی کا درجہ حرارت بڑھنے پر پاکس ایٹمی بجلی گھر نے اپنی پیداوار کم کر دی، جبکہ اٹلی میں دریائے پو کا بہاؤ کم ہونے سے سمندری پانی 18 کلومیٹر اندر تک پہنچ گیا ہے، جس سے زراعت اور ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں اترنے والے متعدد افراد کے ڈوبنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ فرانس کے وزیرِ داخلہ لاراں نونیز کے مطابق ہیٹ ویو شروع ہونے کے بعد ملک میں کم از کم 74 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایسے مقامات پر نہا رہے تھے جہاں حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ فرانس، جرمنی اور جمہوریہ چیک کے بعض علاقوں میں مزید طوفان آ سکتے ہیں، جبکہ مغربی یورپ میں آئندہ چند روز کے دوران موسم نسبتاً ٹھنڈا ہونے کی توقع ہے۔ تاہم ہیٹ ویو اب وسطی یورپ اور بلقان کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے باعث وہاں بھی شدید گرمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، اور اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسی تباہ کن گرمی کی لہریں مزید عام ہو سکتی ہیں۔