نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار
اسٹیٹ بینک نے 27 اپریل سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھی ہوئی ہے
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 50 روز کے لیے پالیسی شرح سود (Policy Rate) 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ اور معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہے، جن کی اکثریت کا خیال تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں مرکزی بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
پیر کو اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کی زیر صدارت ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال، مہنگائی، بیرونی شعبے اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا، جبکہ جون کے اجلاس میں بھی شرح سود کو اسی سطح پر برقرار رکھا گیا تھا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے حالیہ سروے کے مطابق 97 فیصد معاشی ماہرین نے شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہونے کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ صرف 3 فیصد ماہرین نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔
ملکی معاشی اشاریے مجموعی طور پر بہتری کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ مالی سال 2026 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صرف 136 ملین ڈالر تک محدود رہا، جو حکومتی ہدف کے مطابق ہے۔ اس خسارے کی بنیادی وجہ تجارتی سرگرمیوں میں بحالی کے باعث درآمدات میں اضافہ قرار دی گئی ہے۔
دوسری جانب بھاری بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود اسٹیٹ بینک جون 2026 کے اختتام تک اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر کے ہدف پر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بھی 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جس نے ملکی معیشت کو نمایاں سہارا فراہم کیا۔
مہنگائی کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں شرحِ افراطِ زر 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پورے مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی 7.05 فیصد رہی، جو اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کے قریب ہے۔
مرکزی بینک کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود وہ مہنگائی اور بیرونی خطرات پر نظر رکھتے ہوئے محتاط مالیاتی پالیسی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔